مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 493
حضرت مولوی غلام حسن صاحب پشاوری ؓ حضرت مولوی غلام حسن رضی اللہ عنہ کے والد صاحب کا نام جہان خان صاحب تھا۔آپ کی اصل سکونت میانوالی تھی اور یہ علاقہ ضلع بنوں میں تھا۔آپ کے خاندان کے احباب اب بھی اس علاقے خصوصاً موسیٰ خیل میں موجود ہیں۔آپ کی عارضی سکونت پشاور میں تھی۔بیعت کے وقت آپ گورنمنٹ سکول (یعنی میونسپل بورڈ سکول پشاور) میں مدرّس تھے۔بعد میں آپ رجسٹرار ہو گئے تھے۔حضرت مولوی صاحب ؓ کے مہربان و مربی حضرت مرزا محمد اسماعیل قندھاری ؓ (جن کی ہمشیرزادی سے آپ کا نکاح ہوا تھا) ایک بلندپایہ صوفی بزرگ تھے جو پشاور محلہ گل بادشاہ کے رہنے والے تھے۔حکومت انگریزی میں ڈسٹرکٹ انسپکٹر آف سکولز تھے۔انہوں نے کتاب براہین احمدیہ کی اشاعت کے لئے چندہ بھیجا تھا اور براہین احمدیہ کو پڑھ کر فرماتے تھے کہ اس شخص کی تحریر مسیح ناصری کی تحریر و تقریر سے ملتی ہے۔یہ بڑے عالی مرتبہ کا ولی ہے۔حضرت مرزا محمد اسماعیل صاحبؓ کی تحریک پر مولوی صاحب نے لدھیانہ جا کر حضرت اقدس ؑ سے ملاقات کی۔انہی ایام میں حضرت اقدس ؑ نے بیعت لینے کا اعلان بھی کیا۔حضرت مولوی غلام حسن صاحب ؓ نے ۱۷؍مئی ۱۸۹۰ء کو بیعت کی۔رجسٹر بیعت اولیٰ میں آپ کی بیعت نمبر۱۹۲ پر درج ہے اور سکونت اصلی میانوالی ضلع بنوں ہے۔(رجسٹر بیعت اولیٰ مندرجہ تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ ۳۵۳) ازالہ اوہام میں حضرت اقدس ؑ نے فرمایا۔’’وفادار اور مخلص ہیں۔بہت جلد ِللّٰہی راہوں اور دینی معارف میں ترقی کریں گے کیونکہ فطرت نورانی رکھتے ہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد سوم) آپ مفسرِ قرآن بھی تھے اور ایک کتاب ’’تفسیر حسن بیان‘‘ لکھی تھی۔قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کا یہ عالم تھا کہ کوئی دو ہزار سے زائد مرتبہ تلاوت قرآن کر چکے تھے اور جن مقامات کو نہیں سمجھتے تھے ان کے بارے میں یہ خیال تھا کہ یہ انسان کی اپنی استعدادوں کا قصور ہے۔حضرت مولوی صاحب نے یکم فروری ۱۹۴۳ء کو قادیان میں وفات پائی اور بہشتی مقبر