مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 489
حضرت مرزا عزیز احمد صاحبؓ حضرت صاحبزادہ صاحب رضی اللہ عنہ ۳؍اکتوبر ۱۸۹۰ء کو پیدا ہوئے۔تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں ابتدائی تعلیم پائی۔جس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے علی گڑھ تشریف لے گئے۔آپ لمبے عرصہ تک ایک محنتی فرض شناس اور دیانتدار افسر کی حیثیت سے سرکاری ملازمت میں رہے اور بالآخر ۱۹۴۵ء میں اے ڈی ایم کے اعلیٰ عہدہ سے ریٹائر ہوئے۔اس کے بعد بقیہ ساری زندگی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی خدمت کے لئے وقف رکھی۔قیام پاکستان اور ہجرت کے بعد ۱۶؍جولائی ۱۹۴۹ء کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے آپ کو صدر انجمن احمدیہ پاکستان کا ناظر اعلیٰ مقرر فرمایا۔اس عہدہ پر آپ ۳۰؍اپریل ۱۹۷۱ء تک فائز رہے۔پہلی بیوی کے انتقال کے بعد مارچ ۱۹۳۰ء میں آپ کی دوسری شادی حضرت میر محمد اسحق صاحب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی محترمہ سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ سے ہوئی جن کے بطن سے اللہ تعالیٰ نے پانچ صاحبزادیاں اور دو صاحبزادے عطا فرمائے۔حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب کا وجود باجود اپنے نہایت اعلیٰ اوصاف اور اہم دینی خدمات کے علاوہ اس لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ کا ایک نشان تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کو بذریعہ خواب آپ کے قبول احمدیت کا نظارہ دکھایا گیا تھا جو کہ حیرت انگیز رنگ میں پورا ہوا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے والد بزرگوار سے پہلے یعنی مارچ ۱۹۰۶ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے دست مبارک پر بیعت کرنے کا شرف حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔٭ ٭ سیرت حضرت مرزا سلطان احمد صاحب مولفہ میرانجم پرویز صاحب صفحہ ۸ تا ۱۰