مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 479 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 479

مکتوب نمبر۱ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ محبیّ عزیزی اخویم …… السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا حال یہ ہے کہ اگرچہ عرصہ بیس سال سے متواتر اس عاجز کو جو الہام ہوا ہے اکثر دفعہ اُن میں رسول یا نبی کا لفظ آگیا ہے جیسا کہ یہ الہام ہوا۔ھُوَالَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ۱؎ اور جیسا کہ یہ الہام ہوا جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَآئِ۲؎ اور جیسا کہ الہام ہوا۔دنیا۳؎ میں ایک نبی آیا مگر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا۔ایسے ہی بہت سے الہام ہیں جن میں اس عاجز کی نسبت نبی یا رسول کا لفظ آیا ہے لیکن وہ شخص غلطی کرتا ہے جو ایسا سمجھتا ہے کہ اس نبوت اور رسالت سے مراد حقیقی نبوت اور رسالت ہے جس سے انسان خود صاحبِ شریعت کہلاتاہے بلکہ رسول کے لفظ سے صرف اسی قدر مراد ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا اور نبی کے لفظ سے صرف اسی قدر مراد ہے کہ خدا سے علم پا کر پیشگوئی کرنے والا یا معارف پوشیدہ بتانے والا سو چونکہ ایسے لفظوں سے جو محض استعارہ کے رنگ میں ہیں اسلام میں فتنہ پڑتا ہے اور اس کا نتیجہ سخت بد نکلتا ہے اس لئے اپنی جماعت کی معمولی بول چال اور دن رات کے محاورات میں یہ لفظ نہیں آنے چاہئیں اور دلی ایمان سے سمجھنا چاہئے کہ نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوگئی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَخَاتَمَ النَّبِیّٖنَ اس آیت کا انکار کرنا یا استخفاف کی نظر سے دیکھنا درحقیقت اسلام سے علیٰحدہ ہونا ہے جو شخص انکار میں حد سے گزرتا ہے جس طرح کہ وہ ایک خطرناک حالت میں ہے ایسا ہی وہ بھی خطرناک حالت میں ہے جو شیعوں کی طرح اعتقاد میں حد سے گذر جاتا ہے۔جاننا چاہئے کہ خدا تعالیٰ ۱؎ تذکرہ صفحہ ۳۶ مطبوعہ ۲۰۰۴ء ۲؎ تذکرہ صفحہ ۶۳ مطبوعہ ۲۰۰۴ء ۳؎ ایک قرأت اس الہام میں یہ بھی ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا۔اور یہی قرأت براہین میں درج ہے اور فتنہ سے بچنے کے لئے یہ دوسری قرأت درج نہیں کی گئی۔منہ