مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 39
مکتوبات احمد ۳۹ جلد چهارم مکتوب نمبر ۵ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکرمی اخوی ام قاضی ضیاء الدین صاحب سلمہ الا نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچ کر به دریافت خیر و عافیت خوشی ہوئی ۔ جس قدرا بتلا آں مکرم کو پیش آیا ہے یہ خدا تعالیٰ کے مستقیم الحال بندوں کو پیش آیا کرتا ہے تا ان کی استقامت اور قوت ایمانی لوگوں پر ظاہر ہوا اور تا وہ اس ذریعہ سے بڑے بڑے ثواب حاصل کریں ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ سخت دل مخالف لوگوں نے جو ہمارے ہی قوم کے علماء اور ان کے ہم خیال ہیں اپنی فتنہ اندازی کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ اور اگر ان کے اختیار میں قتل اور سفك دماء ہوتا تو وہ یہی کر گذرتے مگر خدا تعالیٰ نے عنان حکومت ایک دوسری قوم کو دے دی ہے۔ یہ عاجز خوب جانتا ہے ۔ کہ اللہ جل شانہ ہم کو اور ہماری جماعت کو اس ابتلا میں نہیں چھوڑے گا اور وہ دن جلدی آنے والے ہیں جو حق کی چمک لوگوں پر ظاہر ہو جائے گی اور مخالف حق کے نادم اور خائب ہوں گے ۔ جناب سید نا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی حالات کو دیکھو کہ کیا کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو دُکھ درد اُٹھانے پڑے تھے۔ یہاں تک کہ وطن عزیز چھوڑنا پڑا اور سب دوست دشمن ہو گئے لیکن آخر خداوند تعالیٰ نے ڈوبتی ہوئی کشتی کو اپنے ہاتھ سے تھام لیا اور اسلام کو زمین میں پھر جما دیا۔ یہی حال اس جگہ ہوگا ۔ اور مخالفوں کو بجز سیاہ روئی اور ندامت کے اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا ۔ خدا تعالیٰ اُن کی بد دعا ئیں انہیں پر ڈالے گا اور وہ گردشیں جن کی وہ انتظار کرتے ہیں انہیں پر پڑیں گی ۔ میرے نزدیک بہتر ہے کہ آپ تین چار ہفتہ کے لئے قادیان میں تشریف لے آویں اور قاضی محمد یوسف صاحب ساتھ آجائیں اس -