مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 37
مکتوبات احمد ۳۷ جلد چهارم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مشفقی مکرمی اخویم مکتوب نمبر ۳ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا عنایت نامہ پہنچ کر بدریافت حادثه ، واقعہ وفات اہلیہ مغفوره مرحومه آنمکرم سخت اندوہ وحزن ہوا ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ “ ۔ 66 مومنوں کے لئے یہ دنیا دار الابتلاء ہے۔ خاص کر ان مومنوں کے لئے جو خلوص اور اتحاد زیادہ پیدا کر لیتے ہیں ۔ حدیث صحیح میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے۔ اس کو قضاء و قدر کی مصیبتوں کے لئے تیار رہنا چاہئے کیونکہ جو شخص مجھ سے محبت رکھے اس پر اس قدر مصیبتیں نازل ہوتی ہیں کہ جیسے پہاڑ کے اوپر سے نیچے جلد تر پتھر آتا ہے۔ سو آپ اللہ محبت و اخلاص رکھتے ہیں۔ ضرور تھا کہ آزمائے جاتے ۔ سخت تر مصیبت یہ ہے کہ اس مرحومہ کے خوردسال بچے اپنی والدہ مہربان کا منہ دیکھنے سے محروم رہ گئے ۔ خدا تعالیٰ ان کے دلوں کو غیب سے تسلی اور خوشی بخشے اور آپ کو نعم البدل عطا کرے۔ میرے نزد یک تلاش نکاح ثانی کی ضروری ہے۔ یہی سنت ہے۔ آپ کی عمر کچھ بڑی نہیں ہے۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام اصحاب احمد جلد ششم صفحه ۱۴ ۲۳ مارچ ۱۸۹۰ء لے یہ خط خاکسار پہلی بار شائع کر رہا ہے ۔ الحکم ۱۴/۲/۳۶ میں ” خط کا متن، نہیں صرف اس کی تاریخ کا ذکر ہے ۔ وہاں قاضی محمد عبد اللہ صاحب کی تقریر ذکر حبیب شائع ہوئی ہے۔ وہاں سہواً تاریخ مکتوب ۲۳ مارچ وہاں ہوا تارت ۱۸۸۹ ء تحریر ہے۔ حضرت قاضی صاحب نے ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو آغاز بیعت کے روز بیعت کی ۔ اس کے گیارہ ماہ بعد ان کی اہلیہ محترمہ کا انتقال ہوا ۔ جس پر حضور نے تعزیتی مکتوب ارسال فرمایا ۔ چنانچہ حضرت قاضی صاحب کے روزنامچہ میں یہ مکتوب نقل ہے اور وہاں تاریخ ۲۳ مارچ ۱۸۹۰ ء د ۶۵ درج ہے اور یہی روز نامچہ قاضی محمد عبداللہ صاحب کی اطلاع کا ماخذ ہے ۔ (مؤلف)