مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 407 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 407

مکتوبات احمد ۴۰۷ جلد چهارم حضرت حافظ روشن علی صاحب حضرت حافظ روشن علی صاحب تقریباً ۱۸۸۱ء میں رنمل ضلع گجرات میں پیدا ہوئے ۔ آپ رنمل ضلع گجرات کے مشہور پیروں کے خاندان میں سے تھے۔ آپ کے بھائی ڈاکٹر رحمت علی صاحب مرحوم اپنے خاندان میں سے پہلے احمدی ہوئے ۔ ان کی تحریک و تبلیغ سے باقی تینوں بھائی بھی حلقہ بگوش احمدیت ہو گئے ۔ حافظ صاحب قرآن حفظ کر کے غالباً ۱۹۰۰ء میں قادیان آئے اور حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ سے تمام دینی اور عربی علوم کی تحصیل کی ۔ آپ کا حافظہ بے نظیر تھا۔ صفحوں کے صفحے صرف ایک دفعہ سن کر قریباً دوبارہ سنا سکتے تھے۔ آپ کو بلا مبالغہ ہزاروں شعر عربی کے حفظ تھے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قصائد کے قصائد زبانی سنا دیتے تھے۔ آپ کی صرف ایک آنکھ میں بینائی تھی ۔ مگر کتاب نہ پڑھ سکتے تھے ۔ اس لئے تمام علوم سن سن کر تحصیل گئے ۔ آپ نہایت خوش آواز قاری تھے کیونکہ غیر احمدی بھی ہمارے تبلیغی جلسوں میں آپ کی آواز سے مسحور ہو جاتے تھے ۔ آپ کو خدا نے قبولیت بھی عطا فرمائی تھی ۔ سب احمدی بچے، جوان ، بوڑھے آپ سے محبت رکھتے تھے اور دل و زبان سے آپ کی خوبیوں کے قائل تھے ۔ آپ نہایت بے شر تھے ۔ کسی سے جھگڑا نہ تھا ۔ طبیعت نہایت مستغنی ، کسی سے لالچ نہ تھا۔ آپ وجیہ اور بارعب تھے ۔ آپ پر رویائے صالحہ اور کشف کا دروازہ بھی کئی مرتبہ کھولا گیا۔ الی مرتبہ شام و مصر اور ہندوستان کے علاوہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ آپ شام و ممالک یورپ تک ہو آئے تھے۔ ملک شام میں آپ کی تقریروں اور مباحثوں کی دھوم مچ گئی