مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 35
مکتوبات احمد ۳۵ جلد چهارم مشفقی مکرمی اخوی ام مکتوب نمبرا السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اس پر آشوب وقت میں ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں کہ اللہ اور رسول کی تائید کے لئے اور غیرت دینی کے جوش سے اپنے مالوں میں سے کچھ خرچ کریں اور ایک وہ بھی وقت تھا کہ جان کا خرچ کرنا بھی بھاری نہ تھا ۔ لیکن جیسا کہ ہر ایک چیز پورانی ہو کر اس پر گر دغبار بیٹھ جاتا ہے ۔ اب اسی طرح اکثر دلوں پر حب دنیا کا گرد بیٹھا ہوا ہے۔ خدا اس گرد کو اُٹھا دے ۔ خدا اس ظلمت کو دور کرے ۔ دنیا بہت ہی بے وفا اور انسان بہت ہی بے بنیاد ہے ۔ مگر غفلت کی سخت تاریکیوں نے اکثر لوگوں کو اصلیت کے سمجھنے سے محروم رکھا ہے اور چونکہ ہر ایک عسر کے بعد یسر اور ہر ایک جذر کے بعد مد اور ہر ایک رات کے بعد دن بھی ہے۔ اس لئے تفضلات الہیہ آخر تر و ماندہ بندوں کی خبر لے لیتے ہیں ۔ سو خدا وند کریم سے بھی تمنا ہے کہ اپنے عاجز بندوں کی کامل طور پر دستگیری کرے اور جیسے انہوں نے اپنے گذشتہ زمانہ میں طرح طرح کے زخم اٹھائے ہیں ۔ ویسے ہی ان کو مرہم عطا فرمادے اور ان کو ذلیل اور رسوا کرے جنہوں نے خود کو تاریکی اور تاریکی کو نور سمجھ لیا ہے اور جن کی شوخی حد سے زیادہ بڑھ گئی اور نیز ان لوگوں کو بھی نادم اور منفعل کرے جنہوں نے حضرت احدیت کی توجہ کو جو عین اپنے وقت پر ہوئی غنیمت نہیں سمجھا اور اس کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ جاہلوں کی طرح شک میں پڑے ۔ سو اگر اس عاجز کی فریادیں رب العرش تک پہنچ گئی ہیں تو وہ زمانہ کچھ دور نہیں جو نورمحمدی اس زمانہ کے اندھوں پر ظاہر ہو اور تو الہی طاقتیں اپنی عجائبات دکھلا دیں ۔ اس عاجز کے صادق دوستوں کی تعداد ابھی تین چار سے زیادہ نہیں ۔ جن میں سے ایک آپ ہیں اور باقی لوگ لا پرواہ اور غافل ہیں ۔ بلکہ اکثروں کے