مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 33
حضرت قاضی ضیاء الدین صاحبؓ و حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی ؓ حضرت قاضی ضیاء الدینؓ کوٹ قاضی ضلع گوجرانوالہ کے باشندہ تھے۔آپ پہلی بار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں قادیان ۷؍ فروری ۱۸۸۵ء کو حاضر ہوئے تھے۔آپ سلسلہ ٔاحمدیہ سے اس کے آغاز میں وابستہ ہونے والے سابقون الاوّلون میں سے تھے۔آپ کا خاندان ان معدودے چند خوش قسمت خاندانوں میں سے ایک ہے جن کے ایک سے زیادہ افراد ۳۱۳ صحابہ میں شمار ہوئے۔چنانچہ آئینہ کمالات ِاسلام میں نمبر۱۰۴ پر اور انجام آتھم میں نمبر۳۵ پر آپ کا نام مرقوم ہے۔انجام آتھم میں آپ کے دونوں صاحبزادگان قاضی عبدالرحیم صاحبؓ اور قاضی عبداللہ صاحبؓ کے اسماء ۱۴۵ اور ۲۸۱ نمبر پر درج ہیں۔آئینہ کمالات اسلام میں حضرت قاضی صاحب کا نام مطبع وغیرہ کے لئے ۲۹؍ دسمبر ۱۸۹۲ء کو چندہ کا وعدہ کرنے والوں میں مرقوم ہے۔تریاق القلوب میں زیر نشان نمبر۴ ۷ حضرت اقدس نے قریباً دو صفحات میں قاضی صاحب کا خط درج فرمایا ہے۔اس میں قاضی صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضور ؑ نے میرے متعلق ایک پیشگوئی فرمائی تھی جو بعینہٖ پوری ہوئی۔اس میں قاضی عبدالرحیم صاحبؓ کا بھی ذکر آتا ہے۔آپ ۱۹۰۴ء میں قادیان میں جہاں آپ ہجرت کر کے مقیم ہوگئے تھے فوت ہو کر قادیان کے مشرقی جانب پرانے قبرستان میں مدفون ہوئے اس وقت ابھی بہشتی مقبرہ کا قیام عمل میں نہ آیا تھا۔قاضی عبدالرحیم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ (ولادت ۲۳؍ جون ۱۸۸۱ء وفات ۲۹؍ اکتوبر ۱۹۵۳ء بمقام ربوہ مبارکہ) کو قادیان میں تکمیل منارۃ المسیح و پل براستہ بہشتی مقبرہ، مسجد نور، تعلیم الاسلام ہائی اسکول، مسجد مبارک ربوہ کی تعمیر کی سعادت نصیب ہوئی۔حقیقۃ الوحی میں چراغ دین جمونی کی تحریر کا جو عکس دیا گیا ہے یہ تحریر آپ ہی نے جموں سے بھجوائی تھی۔آپ ہی