مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 214
مکتوبات احمد ۲۱۴ جلد چهارم عیسائی ہو گیا اور ممکن نہیں کہ مسلمان رہوں ۔ یہ خط اس نے احمد اللہ خان کی طرف لکھا تھا اور اس سے مجھ کو ملا ۔ بہر حال یہ کلمہ کفر ہے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ مرتد ہو گیا ۔ جب تک تو بہ نہ کرے ان لوگوں سے۔ مکتوبات نمبر ۶۱ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محبتی اخویم ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب سلمہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ مبلغ پچاس فنه رو پیه مرسه ساخته روپیہ مرسلہ آپ کے مجھ کو پہنچ گئے ایسے نازک اور ضرورت کے وقت میں آپ کا متواتر الد جبکہ بدطینت حاسدوں نے عدالت میں میرے پر مقدمہ اٹھایا ہوا ہے ۔ آپ کا مالی مدد کرنا قابل شکر گزاری ہے ۔ جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرَ الْجَزَاءِ - اب مقد۔ اب مقدمہ کی تاریخ ۔ رفروری ۱۸۹۹ء ہے ۔ غالباً اتوار کے دن عید ہو گی اس صورت میں پیر کو بمقام پٹھان کوٹ مقدمہ پر جانا ہوگا ۔ وَاللهُ اَعْلَمُ ۔ اب میں نے عہد کر لیا ہے کہ کچھ عرصہ آپ کے لئے دعا کرتا رہوں گا ۔ اللہ تعالیٰ دوری مہجوری سے بخیر و عافیت رستگاری عنایت فرماوے ۔ آمین ثم آمین ۔ باقی سب طرح خیریت ہے ۔ ۱۱ فروری ۱۸۹۹ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ از قادیان ضلع گورداسپور