مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 160
مکتوبات احمد ١٦٠ جلد چهارم اس کے حوالہ کر دیا اور وہ دیکھتا ہے کہ ہر یک انسان اس سے کیا معاملہ کرتا ہے ۔ نرمی برتنی چاہئے اور ہر یک وقت دل میں یہ خیال کرنا چاہئے کہ میری بیوی ایک مہمان عزیز ہے جس کو خدا تعالیٰ نے میرے سپرد کیا ہے اور وہ دیکھ رہا ہے کہ میں کیونکر شرائط مہمانداری بجالاتا ہوں اور میں ایک خدا کا بندہ ہوں اور یہ بھی ایک خدا کی بندی ہے مجھے اس پر کونسی زیادتی ہے۔ خونخوار انسان نہیں بننا چاہیے ۔ بیویوں پر رحم کرنا چاہیے اور ان کو دین سکھلانا چاہیے ۔ در حقیقت میرا یہی عقیدہ ہے کہ انسان کے اخلاق کے امتحان کا پہلا موقعہ اس کی بیوی ہے ۔ میں جب کبھی اتفاقاً ایک ذرہ درشتی اپنی بیوی سے کروں تو میرا بدن کانپ جاتا ہے کہ ایک شخص کو خدا نے صدہا کوس سے میرے حوالہ کیا ہے ۔ شاید معصیت ہو گی کہ مجھ سے ایسا ہوا۔ تب میں ان کو کہتا ہوں کہ تم اپنی نماز میں میرے لئے دعا کرو کہ اگر یہ امر خلاف مرضی حق تعالیٰ ہے تو مجھے معاف فرماویں۔ اور میں بہت ڈرتا ہوں کہ ہم کسی ظالمانہ حرکت میں مبتلا نہ ہو جائیں ۔سو میں امید رکھتا ہوں کہ آپ بھی ایسا ہی کریں گے ۔ ہمارے سید و مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس قدرا اپنی بیویوں سے حلم کرتے تھے۔ زیادہ کیا لکھوں ۔* ☆ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد بدر نمبر ۳ جلد ۱ مورخه ۲۰ را پریل ۱۹۰۵ ء صفحہ ۷