مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 153

افاضہ باطنی میں کمزور ہے یہ کس قسم کی کج فہمی ہے۔کیا کوئی بیمار بغیر طبیب کے پوری اطاعت اور پورے طور پر اس کی اطاعت میں محو ہو جانے کے بغیر کوئی فائدہ اس کی دوا سے حاصل کر سکتا ہے۔آفتاب اگرچہ کیسا ہی روشن اور بڑی تیز شعاعوں کے ساتھ نکلتا ہے لیکن اگر اپنے کو ٹھڑی کے دروازے آفتاب کی طرف سے بند کر دیوے تو کیا اس کی روشنی اس پر پڑ سکتی ہے ہرگز نہیں بلکہ روشنی کے طالب کے لئے یہی قانون قدرت ہے کہ آفتاب کی طرف کواڑ پورے طورپر کھول دیوے تا آفتاب کی کھلی کھلی کرنیں اس پر پڑیں۔غرض فیض حاصل کرنے کے لئے یہی ایک قدیم قاعدہ چلا آتا ہے کہ طالب فیض اپنے تئیں فیض قبول کرنے کے لئے ایسے صاف اور بے حجاب طور سے پیش کرے کہ کوئی مانع اور سدّ راہ درمیان میں نہ ہو۔ورنہ اللہ جلّ شانہٗ بے نیاز ہے کسی کی پرواہ نہیں ہے اور خوارق کے بارے میں جو آپ نے لکھا ہے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اکثر لوگ یہی طرز اور طریق اختیار کرتے آئے ہیں کہ مشائخ گذشتہ کے گذرنے اور فوت ہونے کے بعد ہزارہا کرامات کے انبار ان کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں یا اپنے سلسلہ کو وہ رونق دیویں اور قواعد تحقیق و اثبات کے شکنجہ پر چڑھا کر ان کی ان دعائوں کو پرکھا جاوے تو شائد دس ہزار کرامات میں سے کوئی ایک سچی نکلے باقی خیرخواہ مریدوں کے حواشی ہی ہوں۔دنیا میں دیانت و امانت اور راستبازی بہت کم ہے اور کذب اور افترا اکثر دنیا پر غالب رہا ہے۔یہ عاجز یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ اپنے اختیار سے کسی شقی کو سعید بنا سکتا ہوں یا کسی محروم ازلی کو کسی مراد سے متمتع کر سکتا ہوں۔البتہ یہ بات ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی کی پابندی سے اکثر دعائیں اس عاجز کی قبول فرماتا ہے۔اور پیش از وقوع خبریں ظاہر کرتا ہے۔اور اسرار وحقائق و معارف کھولتا ہے۔سو یہ وہ فضول باتیں نہیں ہیں جو قصوں اور کہانیوں کی طرح بے اثر ہوں بلکہ یہ وہ امور ہیں جو آزمائش کرنے والے کو آزما سکتے ہیں۔اس قدر محض آپ کی زیادتِ بصیرت کے لئے لکھا گیا ہے۔ورنہ طبیعت اس قدر علیل ہو رہی ہے کہ ایک ذرہ طاقت تحریر نہیں۔امید کہ ہمیشہ اپنے خیالات خیریت آیات سے مطلع اور مسرور الوقت فرماتے رہیں گے۔٭ الراقم خاکسار غلام احمد قادیان ضلع گورداسپور ٭ الحکم نمبر ۱۰ جلد۱۲ مورخہ ۶؍فروری ۱۹۰۸ء صفحہ ۲،۳