مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 149

کے دروازے کھول دے اور جس پر چاہے دروازہ بند کر دے لیکن اس کا حال انجیل میں لکھا ہے وہ بھی یہودا اسکریوطی کے حال سے کچھ کم نہیں بلکہ اگر سوچ کر دیکھو تو زیادہ ہے کیونکہ یہودا نے گورشوت تو لی مگر زبان سے انکار نہ کیا۔مگر اس شخص نے تین مرتبہ زبان سے انکار کیا بلکہ تیسری دفعہ حضرت مسیح کی طرف جو سامنے کھڑے تھے اشارہ کر کے بلند آواز سے کہا کہ میں اس شخص پر لعنت بھیجتا ہوں اور باقی دس۱۰ حواری جو تھے وہ خوف کے مارے ایسے بھاگے اور ان کو اس بات کی ذرا پرواہ نہ رہی کہ ہمارا مقتدا اور رسول گرفتار کیا گیا ہے۔ہمیں اگر زیادہ نہیں تو دو تین منٹ ہی صبر کرنا چاہئے۔اب دیکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح کے ہدایات کی کیا تاثیر ہوئی تھی۔اگرچہ یہ بات تو تاریخی طور پر مسلّم اور انجیل سے بھی ثابت ہے کہ یہودیوں کے مولویوں اور فقیہوں اور عالموںفاضلوں میں ایک شخص بھی حضرت مسیح پر ایمان نہیں لایا تھا۔صرف یہود کے اَن پڑھ اور اُمیّ اور ناخواندہ مچھوے ایمان لائے تھے لیکن افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ وہ بھی اپنے ایمان پر ثابت قدم اور مستقیم نہ نکلے اور قابل شرم سوانح چھوڑ گئے۔پھر کیا ہم ان سوانح پر نظر ڈال کر حضرت مسیح ؑ یا کسی دوسرے کو برکات روحانیہ سے نعوذ باللہ خالی سمجھ سکتے ہیں۔ماسوا اس کے ہمارے سیدومولا جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم کی سوانح پر نظر ڈالنی چاہئے کہ مکہ کے تیرہ برس میں کس قدر لوگ مشرف باسلام ہو گئے تھے۔اگرچہ جہاد اور جنگ کے زمانہ میں تو اس قدر لوگ حلقہ اسلام میں داخل ہوئے جن کا شمار کرنا مشکل ہے۔سو اکثر ان میں وہی تھے جو اسلام کا غلبہ دیکھ کر اور سیف و سنان کی چمکار ملاحظہ کر کے مشرف باسلام ہوئے تھے اور اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اگرچہ تزکیہ نفس اور دیگر کمالات باطنی میں سب سے زیادہ ترقی کر گئے تھے۔لیکن وہ ترقی یکدفعہ اور دور بیٹھے نہیں ہوئی تھی بلکہ وہ لوگ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بصدق و وفاداری تمام سرآستانہ نبوی پر جا بیٹھے تھے اور بقیہ حصہ اپنی عمروں کا خرچ کر کے اور اپنے مال اور اپنی جان اور اپنی عزت اسی راہ میں فدا کر کے اس بات کے مستحق ٹھہر گئے تھے کہ خدا تعالیٰ کا فضل ان پر خاص ہو ایسا ہی جاننا چاہئے کہ جب تک کوئی سچے دل اور سچی وفاداری سے فضل الٰہی کا طالب نہیں ہوتا تب تک اس کو کسی رسول سے فائدہ نہیں پہنچتا۔دیکھنا چاہیے کہ ابوجہل اور ابولہب جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے اقارب قریبہ میں سے تھے۔جن کے وجود میں