مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 148
اعتراض وارد ہوتا ہے جن کے فیض صحبت سے بہت کم لوگ ہدایت یاب ہوئے ہیں۔بلکہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ بہت سے نبی ایسے بھی گزرے ہیں کہ جن کے ہاتھ سے ایک شخص بھی ہدایت یاب نہیں ہوا۔اللّٰہ جلّ شانہٗ نے حضرت لوط ؑ کا قصہ بھی یہی نمونہ دکھلانے کے لئے قرآن کریم میں درج فرمایا ہے کہ باوجودیکہ حضرت لوط ؑسچے نبی اور مؤید بتائید الٰہی تھے مگر تب بھی ان کی قوت قدسیہ کا ایک ذرہ اثر ان کی قوم پر نہ پڑا بلکہ سخت اور نہایت مکروہ اور ناگفتی فواحش میں وہ مبتلا رہے اور اسی میں جانیں دیں یہاں تک کہ حضرت لوطؑ کی بیوی بھی باوجود اس کے کہ ایسے پاک باطن اور مقدس رسول سے اس کا ایک خاص تعلق تھا معصیت اور نافرمانی سے بچ نہ سکی۔اسی کے قریب قریب حضرت نوح علیہ السلام کا حال ہے جو نو سو برس تک برابر دعوت حق کرتے رہے مگر بجز معدودے چند کے اور تمام لوگ حتیّٰ کہ ان کا ایک بیٹا بھی عذاب طوفان میں مبتلا ہو کر داخل جہنم ہوئے۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اصحاب اور صحبت یافتہ لوگوں کا حال دیکھنا چاہئے کہ قرآن کریم میں کسقدر ان کے فسق و فجور اور معاصی اور نافرمانیاں بیان کی گئی ہیں یہاں تک کہ وہ باوجود ایک رسول کے صحبت یاب ہونے کے ہر ایک زمانہ کے بدمعاشوں اور اوباشوں کا ننگ معلوم ہوتے ہیں اور پھر حضرت مسیح ؑ کے حواری جن کے مثیل ہونے کے لئے یہ عاجز مامور کیا گیا ہے۔غور کرنے کی جگہ ہے انجیلوں سے یہ ایک تاریخی ثبوت ملتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ پر ان کی کل زمانہ رسالت میں بیاسی آدمی ایمان لا کر ان کے خاص دوستوں اور مصاحبوں اور دن رات کے رفیقوں میں داخل ہوئے تھے۔ازانجملہ ستر۷۰ آدمی ایک ابتلا کے وقت ان کی بیعت…… اور اطاعت سے دست بردار ہو کر اپنے اپنے گھروں میں چلے گئے اور پھر مدت العمر بداعتقادی کے ساتھ انہوں نے عمر بسر کی۔باقی رہے بارہ حواری ان کا یہ انجام ہوا کہ ایک ان میں سے یہودا اسکریوطی نام جس کو بہشت کے بارہویں تخت کا وعدہ بھی دیا گیا تھا۔یہودیوں کے مولویوں فقیہوں سے تیس۳۰ روپیہ رشوت لیکر اس جرم کا مرتکب ہوا کہ اپنے آقا اور رسول کو ان کے ہاتھ میں پکڑوا دیا اور آخر بے ایمان ہو کر مرا۔اور ازانجملہ ایک حواری میاں پطرس جس کی نسبت حضرت مسیح کی پیش گوئی تھی کہ پطرس ایسا مقرب الٰہی آدمی ہے کہ جس کے ہاتھ میں بہشت کی کنجیاں ہیں جس کے لئے چاہے بہشت