مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 147
مکتوبات احمد ۱۴۷ جلد چهارم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکتوب نمبر ۲ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مشفقی محتی اخویم مرزا خدا بخش صاحب سلمہ اللہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا عنایت نامہ پہنچا جو کچھ آپ نے بطور ہمدردی دین تحریر فرمایا ہے۔ وہ انشاء اللہ تعالیٰ آپ کے لئے بموجب ثواب واجر ہے۔ ہر ایک شخص جو اصلاح خلق اللہ کے لئے مامور من اللہ ہو ۔ وہ طبعا اور فطرتاً اپنے اندر یہ جوش رکھتا ہے کہ ہر دم اور ہر وقت خدا تعالیٰ سے خواستگار ہو کہ جو لوگ اس کے دامن کے ساتھ وابستہ ہو گئے ہیں اور سچے دل سے اس کے سلسلۂ بیعت میں داخل ہو چکے ہیں ان کی اندرونی غلاظتیں اور دلی ظلمتیں دور ہو جائیں ۔ لیکن نور سے ظلمت کی طرف اور ضلالت سے ہدایت کی طرف کھیچنا یہ خاص خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور بشر کی طاقت نہیں کہ خود بخود کسی مردہ دل کو زندہ کر سکے جب تک بالائی طاقت اس کو زندگی نہ بخشے ۔ نہ اکثر لوگ خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے بندوں کے بارے میں یہ معیار اور محک بنانا چاہتے ہیں کہ ان کے متبعین کی حالت کو دیکھیں کہ کہاں تک وہ محبت اور اطاعت الہی میں ترقی کر گئے ہیں اور اگر ایسے خدا رسیدہ متبعین نہ پاویں تو بلا توقف یہ فیصلہ کرنے کو تیار ہوتے ہیں کہ وہ شخص متبوع برکات روحانیہ سے خالی ہے ۔ حالانکہ یہ ان کی پرلے درجے کی غلطی ہے ۔ وہ بوجہ اپنی بے بصیرتی کے ایسا خیال کر بیٹھتے ہیں کہ گویا نورانی اشخاص کے لئے یہ امر لازم غیر منفک ہے کہ ان کا نور خواہ نخواہ ہر ایک طبع اور استعداد میں سرایت کرے حالانکہ یہ خیال سراسر غلط ہے ۔ جسمانی طور پر بھی اگر دیکھا جاوے تو جس قدر منور اجرام آسمان کی فضا میں پائے جاتے ہیں ۔ وہ ہر ایک آنکھ کو روشنی نہیں بخش سکتے جب تک کہ آنکھ میں فطرتی طور پر روشنی قبول کرنے کا مادہ نہ ہو مثلاً شہرک یا اور تمام ایسے لوگوں کو جو آنکھ کے اندھے ہوں آفتاب کے وجود پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہو سکتا ۔ اگر چہ یہ بات سچ ہے کہ نورانی لوگوں کی صداقت اور راستبازی اسی بات پر منحصر ہے کہ ان کے نور سے عموماً تاریک خیال لوگ منور ہو جائیں تو پھر بعض انبیاء پر