مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 146
پڑھیں۔مجھے کبھی کبھی اپنے حالات سے اطلاع دیتے رہیں اگرچہ وہ ہندو مسلمان ہونے پر کیسا ہی مستعد معلوم ہو مگر میری رائے میں بہتر ہے کہ اُس سے بھی قطع امید کرکے اپنے مولا غفور الرحیم پر نظر رکھیں تا وہ کوئی راہ پیدا کرے۔میںآپ کے لئے سوچ میں رہتا ہوں خدا تعالیٰ چاہے گا تو کوئی راہ پیدا کرے گااس پریشانی سے جو آپ لاہور میں گزارتے ہیں اگر آپ میرے پاس رہتے تو بہتر تھا مجھے آپ کے بارے میں دل میں درد اور فکر ہے مگر ایمانی غیرتمندی کی وجہ سے ایسے لوگوں کی طرف دامن سوال پھیلانے سے کارہ ہوں جن کی صحت خلوص واعتقاد میں مجھے کمال درجے کا شک اور اُن کے بگڑ جانے کا قریب قریب یقین کے گمان ہے خصوص ان دنوں میں جو ہر طرف سے فتنے اور سوء ظن کی آوازیں سنتا ہوں مگر یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ جلد ایسے لوگ میرے گروہ میں داخل کردے گا کہ جو اسلام اور مسلمانوں کے کام آویں گے۔آخر اس دعاپر ختم کرتاہوں کہ یَا اِلٰہَ الْعَالَمِیْنَ اپنے عاجز بندے خدابخش پر بخشش اور رحمت فرما کہ آخر تیرا ہی رحم ہے جو مصیبتوں سے نجات دیتا ہے۔آمین ثم آمین۔٭ ۱۷؍مئی ۱۸۸۹ء خاکسار غلام احمدعفی عنہ اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب ان دنوں میں کشمیر میں ہیں۔ایک خط سے معلوم ہوا تھا کہ اُن کی والدہ صاحبہ فوت ہوگئے ہیں جہاں تک مجھے اُن کے ذاتی امور کا بہت علم تھا میں نے زبانی آپ سے بیان کردیا تھا۔چندہ کے بارے میں انشاء اللہ ان کی خدمت میں تحریر کروں گا مگر میرے نزدیک بہتر تھا کہ جس وقت وہ جموں آئیں تو آپ تحریری تاکید میری طرف سے لے جاتے اب اگر آپ کا بھی منشاء ہے تو آپ مجھے اطلاع دیں تو میں خط لکھ کر آپ کے پاس بھیج دوں گا۔آپ اس خط کو پڑھ کر خود روانہ کردیں مگر آپ کے اطلاع دینے کے بعد یہ خط تحریر کیا جائے گا۔فقط۔٭ الحکم نمبر۲۶جلد۷مورخہ۱۷؍جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۱،۱۲