مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 143

حضرت مرزاخدا بخش صاحبؓ مرزا خدا بخش جھنگ شہر میں مرزا مراد بخش صاحب کے گھر ۱۸۵۹ء میں پیدا ہوئے۔محلہ باغوالہ جھنگ سے آپ کا تعلق تھا۔بی اے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا۔ہائی کورٹ لاہور میں بطور مترجم ملازمت مل گئی۔…… رجسٹر بیعت کے مطابق ۶۴ نمبر پر آپ کی بیعت درج ہے۔جو ۲۴؍مارچ ۱۸۸۹ء کی ہے۔آپ نے حضرت اقدس ؑ کے اخلاق کریمہ سے متاثر ہو کر سرکاری ملازمت چھوڑ دی۔حضرت اقدس ؑ نے مکان کے ایک حصہ میں آپ کو جگہ دی۔حضرت مسیح موعود ؑ کے فیض روحانی کے پھیلانے کے لئے ہندوستان کے مختلف شہروں میں جا کر آپ نے علماء سے مباحثے کئے۔آپ کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ان کی کتاب ’’عسل مصفّٰی‘‘ کی تصنیف ہے۔اسے حضرت مسیح موعود ؑ نے تین ماہ تک مغرب سے عشاء تک سنا اور اظہار خوشنودی فرمایا۔یہ کتاب دو جلدوں میں ہے اور چودہ سو صفحات پر مشتمل ہے۔ازالہ اوہام میں آپ کا ذکر صاف باطن اور ہمدردی اسلام کا جوش رکھنے والوں میں ہے۔آسمانی فیصلہ میں پہلے جلسہ میں شامل ہونے والوں، آئینہ کمالاتِ اسلام میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء اور چندہ دہندگان ، تحفہ قیصریہ میں ڈائمنڈ جوبلی میں شرکت کرنے والوں اور سراج منیر اور کتاب البریہ میں پرُامن جماعت میں آپ کا ذکر کیا ہے۔کتاب منن الرحمن میں حضرت اقدس ؑ نے اشتراک السنہ میں جاں فشانی کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آپ کا بھی ذکر فرمایا ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ کی وفات کے بعد مبائعین خلافت سے وابستہ نہ رہے اور احمدیہ انجمن اشاعت اسلام، لاہور کے ساتھ شامل ہو گئے۔۴؍اپریل ۱۹۳۸ء کو بعمر ۷۸سال وفات پائی۔٭ ٭ تین سو تیرہ اصحاب صدق و صفا صفحہ ۸۷،۸۸