مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 119
مکتوبات احمد ۱۱۹ جلد چهارم حضرت مولوی امام الدین صاحب فیض آف گولیکی حضرت مولوی امام الدین صاحب فیض ولد مولانا بدرالدین صاحب نومبر ۱۸۵۱ء میں پیدا ہوئے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت ۱۸۹۵ء میں کی ۔ اور غالباً ۱۸۹۵ء میں ہی بیعت کر کے سلسلہ عالیہ احمد یہ میں داخل ہوئے ۔ سورج چاند گرہن کا نشان ظاہر ہونے پر آپ کی توجہ احمدیت کی طرف مبذول ہوئی ۔ چنانچہ بٹالہ آکر آپ نے قادیان کا پتہ لگایا اور چپ چاپ یہاں پہنچ کر حضرت اقدس علیہ السلام سے ملاقات کی اور بیعت کا شرف حاصل کیا ۔ اکتوبر ۱۹۲۵ء میں حضرت خلیفة المسیح الثانی سے اجازت لے کر اپنے وطن گولیکی سے ہجرت کر کے قادیان تشریف لے گئے ۔ آپ کی آنکھ میں نزول الماء ہو رہا تھا اور عارضہ فتق بھی لاحق ہو گیا تھا لیکن اس کے باوجود ایک کثیر تعداد شاگردوں کی آپ کے ارد گرد جمع ہوگئی جو آپ سے علم حاصل کر کے مولوی فاضل ، ادیب اور مدرس کے علاوہ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوئے ۔ حضرت مولانا صاحب ایک جید عالم اور عارف تھے ۔ صاحب کشف والہامات اور مستجاب الدعوات تھے۔ باوجود پیرانہ سالی اور ضعیفی کے ہر نماز باجماعت ادا کرتے اور با قاعدگی سے نماز تہجد پڑھتے تھے ۔ آپ ۱۲ را پریل ۱۹۴۰ء کو آٹھ بجے شام نہایت طمانیت وسکون کے ساتھ واصل بحق ہوۓ ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ آپ کے فرزند قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ آپ معروف شاعر اور اخبار نویس تھے ۔ آپ نے ساری عمر سلسلہ کی خدمت میں گزاری ☆ البقرة : ۱۵۷ تلخیص از الفضل نمبر ۹۵ جلد ۲۸ مورخه ۲۷ را پریل ۱۹۴۰ صفحه ۴ تا ۶