مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 93

مکتوبات احمد ۸۵ جلد سوم حضرت صاحبزادہ پیر سراج الحق جمالی نعمانی سرساوی رضی اللہ تعالی عنہ کے نام تعارفی نوٹ حضرت صاحبزادہ سراج الحق صاحب سَابِقُونَ الْأَوَّلُونَ میں سے ہیں اور اس میں کچھ شبہ نہیں کہ انہوں نے سلسلہ کے لئے بہت بڑی قربانی کی تھی۔وہ ایک سجادہ نشین خاندان کے رکن تھے اور اپنے مریدوں کا بھی ایک وسیع حلقہ رکھتے تھے لیکن جب ان پر سلسلہ کی صداقت کھل گئی تو انہوں نے اس عظمت و راحت پر لات مار دی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دروازہ پر دھونی رمالی۔میں انشاء اللہ العزیز صاحبزادہ صاحب کی زندگی پر بہت جلد ایک مضمون لکھنے کا عزم رکھتا ہوں۔ایک شخص جس کی عمر کا بہت بڑا حصہ ناز و نعمت میں گزرا ہو اور جو اپنے خاندان اور اپنے مریدوں میں اکرام و احترام کا مرکز ہو،سلسلہ احمدیہ میں آنے کے بعد اس کی زندگی میں حیرت انگیز تغیر ہوا۔وہ فی الحقیقت ایک درویش کی زندگی بسر کرتا تھا۔آخری وقت تک اس نے کوشش کی کہ وہ اپنی محنت سے روٹی کمائے۔کتابت کے ذریعہ کچھ عرصے تک وہ اپنی قوت لایموت پیدا کرتے رہے لیکن جب قومی نے جواب دے دیا اور اس کام کو نہ نبھا سکے تو حضرت خلیفہ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز خصوصیت سے ان کی ضروریات کا لحاظ رکھتے تھے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کی زندگی کا آخری دور نہایت عسرت اور امتحان کا دور تھا مگر وہ اس دور میں پورے ثابت قدم رہے اور اس امتحان میں کامیاب ہوئے۔ان کی زندگی کا آخری کارنامہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات زندگی لکھ رہے تھے جو انہیں یاد تھے۔میں ان کی زندگی میں چاہتا تھا کہ اس مسودہ کو دیکھوں۔انہوں نے