مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 3
مکتوبات احمد ۳ جلد سوم والد محترم حضرت مرزاغلام مرتضی صاحب کے نام حضرت اقدس کا ایک عجیب مکتوب ذیل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک گرامی قدر مکتوب درج کیا جاتا ہے اس مکتوب کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کس طرح اول عمر ہی سے اس دنیا سے متنفر اور اللہ سے اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کی فکر میں رہتے تھے ۔ یہ مکتوب آپ نے اپنے والد ماجد مرزا غلام مرتضی خان صاحب مرحوم کی خدمت میں ایسے وقت میں لکھا تھا جب آپ بد و شباب میں تھے۔ یہ مکتوب ہی آپ کی پاکیزہ فطرتی اور مطہر سیرت کا ایک جزو ہے۔ (ایڈیٹر بدر ) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ حضرت والد مخدوم من سلامت ! مراسم غلاما نه و قواعد فدویا نه بجا آورده معروض حضرۃ والا میکند چونکه در این ایام برای العین می بینم و بچشم سر مشاهده میکنم که در همه ممالک و بلاد ہر سال چنان و بائے مے افتد که دوستان را از دوستان و خویشان را از خویشان جدا می کند و بیچ سالے نه بینم که این نائره عظیم و چنین حادثه الیم در آن سال شور قیامت نیفگند نظر بر آن دل از دنیا سرد شده است و رو از خوفِ جان زرد و اکثر این دو مصرعه شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی بیاد مے آ ئند واشک حسرت ریخته میشود ۔ مگن تکیه بر عمر نا پائیدار مباش ایمن از بازی روزگار و نیز این دو مصرعه ثانی از دیوان فرخ قادیانی نمک پاش جراحت دل میشود ۔ بدنیائے دوں دل مبند اے جوان که وقت اجل میرسد ناگهان