مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 82
مکتوبات احمد ۸۲ جلد سوم کر چکا ہوں جس کا جواب عاجز کو موصول نہیں ہوا اور اگر حضور اجازت دے دیں تو وقت داخلہ تھوڑا ہے۔اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ بذریعہ عریضہ دستی اجازت کی درخواست کی جائے اور دعا کے لئے خواستگار ہوں۔چنانچہ حامل عریضہ ھذا کو حضور کی خدمت میں بھیجتا ہوں کہ کالج مذکور میں سہ سالہ پڑھائی ہے اور گورنمنٹ ملا زمت دینے کی ذمے دار ہے اور جو تعلیم پوری کر کے ملازمت کریں ان کو گورنمنٹ ابتدائی تنخواہ سے روپیہ کے قریب دے گی۔کالج نیا ہے۔شروع میں وظیفہ بھی پڑھائی کے لئے سرکار سے قریباً کل لڑکوں کو ملتا ہے۔اگر حضور پسند فرماویں تو اجازت دے دیں اور دعا فرما کر فخر بخشیں تا کہ عزیز بشیر احمد کے داخل کرانے کا جلد انتظام کرایا جاوے ورنہ جیسا حکم ہو کیا جاوے۔حضور کے جواب باصواب کا منتظر۔عاجز غلام ۱۶ مارچ ۱۹۰۸ء بند و عبدالمجید نای مهتم از کپورتھلہ ( حضور میں اپنے آپ کو بڑا خوش قسمت سمجھوں۔اگر حضور کسی چیز کے لئے حکم کریں جو کہ بین ماه حال کو یعنی جب قادیان حاضر ہوں ہمراہ لیتا آؤں۔عاجز غلام۔بندہ عبدالمجید ) مکتوب نمبر ۱۵ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کا ڈاک میں بھی خط پہنچا تھا۔مجھے چونکہ دورہ کے طور پر بیماری لاحق ہو جاتی ہے اس وقت جواب لکھنے سے معذور ہو جاتا ہوں۔آج جواب لکھنا چاہتا تھا کہ آج بھی بیمار رہا۔میرے نزدیک کچھ مضائقہ نہیں تو کلاً علی اللہ داخل کرا دیا جاوے۔میں انشاء اللہ دعا کروں گا کہ خدا تعالیٰ کا میاب کرے اور بلاؤں سے محفوظ رکھے۔باقی خیریت ہے۔محمود احمد اس جگہ نہیں ہے خط اس جگہ رکھ لیا ہے وہ امرتسر گیا ہوا ہے۔باقی خیریت ہے۔والسلام مرزا غلام احمد عفی عنہ