مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 80

مکتوبات احمد ۸۰ جلد سوم کے جواب کے لئے وہ کسی قدر مضطرب رہتا ہے۔دوسرے آپ نے دعا کے متعلق بھی قبول ہونے والی دعا کا راز بتایا کہ وہ ایک خاص مجاہدہ اور کوشش کو چاہتی ہے۔سوم۔آپ کی طبیعت پر صداقت کس قدر غالب ہے۔نمائش اور ریا سے آپ پاک ہیں۔چونکہ بوجہ علالت شدید دعا کے لئے وہ حالات میسر نہیں ، صاف اعتراف فرمایا کہ اس وقت دعا نہیں کر سکتا۔اس مکتوب کے ہر لفظ سے آپ کا تو کل علی اللہ نمایاں ہے۔(عرفانی کبیر ) بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جناب عالی نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ حضور کی علالت طبع کا سن کر دل کو صدمہ ہوا۔خدا تعالیٰ جلد صحت کئی عطا فرما دے۔حضور جان ہیں اور گل جہاں جسم ہے۔حضور کی بیماری کی خبر سخت بے چینی کا موجب ہوتی ہے۔حضور بواپسی ڈاک اپنی صحت سے اطلاع بخشیں۔اس معاملہ میں جس کے لئے حضور نے توجہ فرمائی تھی۔وہ اب درست ہوتا معلوم ہوتا ہے یعنی صاحب بہادر نے جو استعفی دیا تھا وہ اب واپس لینے کے قریب ہیں۔حضور کی خدمت میں بطور یاد دہانی بعد عجز التماس ہے کہ حضور دعا فرما دیں کہ سری حضور اندر دام اقبالۂ یعنی مہا راجہ صاحب بہادر کے دل میں نرمی پیدا ہو اور وہ صاحب بہادر کی دلجوئی کر دیں۔اتنے میں صاحب خوش ہو جائیں گے اور کام بدستور بنار ہے گا۔صاحب بہادر کی میم ، حضور کی خدمت میں بعد معجز دعا کے لئے التماس کرتی ہیں۔خود حاضر ہونے کو تیار ہیں۔مگر حالات موجودہ اجازت نہیں دیتے۔بعد میں وہ اس معاملہ میں کوشش کریں گے۔حضور کے جواب کا منتظر ۱۴ / فروری ۱۹۰۸ء عاجز غلام بندہ عبدالمجید نائب مہتمم از کپورتھلہ