مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 79

مکتوبات احمد ۷۹ کے ایام علالت کا حساب ہو رہا تھا اور حضرت منشی اروڑے خاں صاحب اور حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب رضی اللہ عنھما یہ کام کر رہے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق حساب میں سہولت اور اولاد کے لئے نرم سلوک کے انوار ظاہر کر دیئے۔مرحوم منشی صاحب ہی کا کچھ روپیہ ایصال طلب ثابت ہوا اور حکومت کپورتھلہ نے اسے ادا کر دیا۔حضرت مرحوم اپنی دیانت، امانت اور تقوی و طہارت نفس میں ایک بے نظیر آدمی تھے۔با وجود اتنے بڑے عہدہ پر مامور ہونے کے اپنی زندگی درویشا نہ گزارتے تھے۔جو ملتا تھا اس میں سے صرف قوت لایموت رکھ کر سلسلہ کی نذر کر دیتے تھے۔اللہ ! اللہ ! کیا لوگ تھے۔رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ۔(عرفانی کبیر) جلد سوم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکتوب نمبر ۱۳ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا خط پہنچا۔میری یہ حالت ہے کہ میں قریباً ہمیں روز سے بیمار ہوں ، کھانسی کی بہت شدت ہے ، دوسرے عوارض بھی ہیں۔اس وقت میں ایسا کمزور ہو گیا ہوں کہ دعا میں پورا مجاہدہ اور کوشش نہیں کر سکتا۔اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو شخص مذکور کے لئے دعا کروں گا۔اللہ تعالیٰ رحم فرمادے۔میں اس قدر کمزور ہو گیا ہوں کہ اس قدر تحریر بھی مشکل سے کی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ اگر میری صحت میں خدانخواستہ کچھ زیادہ خلل نہ ہوا تو حتی المقدور دعا کروں گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔۱۰ / فروری ۱۹۰۸ء مرزا غلام احمد ( نوٹ ) اس مکتوب سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خطوط کے جواب میں کس قدر محتاط اور مستعد تھے۔اور آپ انسان کی فطرت کو سمجھتے تھے کہ خطوط