مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 76
مکتوبات احمد ۷۶ جلد سوم مکتوب نمبر ۹ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مخدومی مکرمی خان صاحب نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آج آپ کا خط مجھے ملا جس میں آپ تا کید فرماتے ہیں کہ حضرت کے نام جو آپ کا خط ہو اس کا جواب آپ سوائے حضرت کے اور کسی کے ہاتھ سے نہیں چاہتے ۔ ساتھ حضرت نے آج مجھ سے دریافت فرمایا ہے کہ عبد المجید صاحب کے خطوط کا جواب کیوں نہیں دیا جاتا۔ میں تعجب کرتا ہوں کہ حضرت کے نام آپ کے خطوط کا جواب فوراً دیا جاتا ہے اور عموماً میں خود لکھتا ہوں بلکہ حضرت کی تحریر بھی آپ کو روانہ کرتا ہوں ۔ پھر بھی آپ نے حضور کو ایسے الفاظ لکھے ہیں جن سے حضور کو یہ خیال ہوا ہے کہ گویا آپ کو خطوط کا جواب ہی نہیں دیا جاتا ۔ آپ کو چاہئے تھا کہ بوضاحت لکھتے کہ میرے خطوط کا جواب حضور کی طرف سے بہ دستخط محمد صادق پہنچتا ہے مگر مجھے اس کی ضرورت نہیں ۔ اور اب بھی آپ حضرت کو اطلاع کر دیں اور کھول کر ۔ اب رہی یہ بات کہ ہم آپ کے خطوط کا جواب لکھا کریں یا نہ لکھا کریں ۔ سو اس کے متعلق یہ گزارش ہے کہ مجھے آپ کا حکم مانتے بھی کبھی تامل نہ ہوتا مگر میں حضور علیہ السلام کے حکم سے مجبور ہوں ۔ مجھے جب حکم ہوتا ہے کہ میں ایک خط کا جواب لکھوں تو وہ مجھے ضرور لکھنا پڑتا ہے ، خواہ کسی کو پسند ہو یا نا پسند ۔ اس کا خیال نہیں ۔ اطاعت حکم سے مطلب ہے ۔ آج حضور نے مجھے حکم دیا کہ اس کا جواب لکھو۔ میرے عرض کرنے پر پھر فرمایا کہ اچھا میں بھی لکھوں گا مگر آپ بھی لکھو۔ فرمائیے اب میں کیا کروں ۔ اللہ تعالیٰ کا فضل آپ کے سے مر شامل حال ہو ۔ والسلام خادم ۔ محمد صادق علی اللہ عنہ قادیان اس واقعہ سے محبت اور اطاعت کے گراں قدر جذ بے کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔