مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 60
مکتوبات احمد ۶۰ جلد سوم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکتوب نمبرا نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد با خویم مکرم منشی ظفر احمد صاحب بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ آپ کا پہنچا حرف حرف اس کا پڑھا گیا اور آپ کے لئے دعا کی گئی۔قبض اور بے مزگی اور بے ذوقی کی حالت میں مجاہدات شاقہ بجا لا کر اپنے مولا کو خوش کرنا چاہئے اور یا درکھنا چاہئے کہ وہ مجاہدہ جس کے حصول کے لئے قرآن شریف میں ارشا دوتر غیب ہے اور جو مور دکشود کار ہے۔وہ مشروط بہ بے ذوقی و بے حضوری ہے۔اور اگر کوئی عملی ذوق اور بسط اور حضور اور لذت سے کیا جائے اس کو مجاہدہ نہیں کہہ سکتے اور نہ اس پر کوئی ثواب مترتب ہوتا ہے۔کیونکہ وہ خود ایک لذت اور نعیم ہے اور تم اور تلڈذ کے کاموں سے کوئی شخص مستحق اجر نہیں ہو سکتا۔ایک شخص شربت شیر میں پی کر اس کے پینے کی مزدوری نہیں مانگ سکتا، سو یہ ایک نکتہ نہایت باریک ہے کہ بے ذوقی اور بے مزگی اور تلخی اور مشقت کے ختم ہونے سے و ہیں ثواب اور اجر ختم ہو جاتا ہے اور عبادات ، عبادات نہیں رہتیں بلکہ ایک روحانی غذا کا حکم پیدا کر لیتی ہیں۔سوحالت قبض جو بے ذوقی اور بے مزگی سے مراد ہے یہی ایک ایسی مبارک حالت ہے جس کی برکت سے سلسلہ ترقیات کا شروع رہتا ہے۔ہاں بے مزگی کی حالت میں اعمالِ صالحہ کا بجالا نا نفس پر نہایت گراں ہوتا ہے مگر ادنی خیال سے اس گرانی کو انسان اُٹھا سکتا ہے جیسے ایک مزدور خوب جانتا ہے کہ اگر میں نے آج مشقت اُٹھا کر مزدوری نہ کی تو پھر رات کو فاقہ ہے اور ایک نوکر یقین رکھتا ہے کہ میں نے تکالیف سے ڈر کر نوکری چھوڑ دی تو پھر گزارہ ہونا مشکل ہے۔اسی طرح انسان سمجھ سکتا ہے کہ فلاح آخرت بجز اعمال صالحہ کے نہیں اور اعمال صالحہ وہ ہوں جو خلاف نفس ہوں اور مشقت سے ادا کئے جاویں۔اور عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ دل سے جس کام کے لئے معتم عزم کیا جاوے اس کے انجام کے لئے طاقت مل جاتی ہے۔سو تم عزم اور عہد واثق سے اعمال کی طرف متوجہ ہونا چاہئے اور نماز میں اس دعا کو پڑھنے میں کہ