مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 548
مکتوبات احمد ۴۰۸ جلد سوم دستی خط بنام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو اس وقت لاہور میں رہتے تھے ) مکتوب نمبر 1 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ بخدمت اخویم مکرم مولوی صاحب بعد السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ مسودہ خط شکستہ آں مخدوم جومحمد شاہ نام ایک شخص نے مجھ کو دیا ہے مجھ سے اچھی طرح پڑھا نہیں گیا ہے۔دوسرا مسودہ جو شمس الدین کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے، پڑھ لیا ہے۔اس عاجز نے محض اتمام حجت کی غرض سے یہ قصد کیا ہے۔بعد اجرائے نوٹس اگر کوئی مقابلہ کے لئے آیا ، یا نہ آیا۔بہر حال اتمام حجت ہے اور إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ سے خالی نہیں۔انشاء اللہ تعالیٰ عمر کا اعتبار نہیں۔جس قدر جلدی ہو بہتر ہے۔اخیر خط میں یہ عبارت ضرور چاہئے کہ اگر کوئی شخص آنے کا ارادہ کرے تو اول بذریعہ درخواست اپنے ارادہ سے مطلع کرے۔میاں عبداللہ پٹواری جو اس کام کے لئے گئے ہوئے ہیں ان کو آپ فہمائش کر دیں کہ دو ہزار اشتہار انگریزی لے کر قادیان میں آجائیں اور خطوط بعد میں پہنچ جائیں گے ان کا زیادہ تو قف کرنا کچھ ضروری نہیں۔والسلام ۹ رفروری ۱۸۸۵ء خاکسار غلام احمد عفی عنہ ے جس اشتہار کا اس خط میں ذکر ہے یہ وہ اشتہار ہے جو سرمہ چشم آریہ وشحنہ حق و آئینہ کمالات اسلام و برکات الدعا کے اخیر میں بھی لگا کر شائع کیا گیا تھا اور جس کے ایک صفحہ پر اردو مضمون متعلق براہین احمدیہ و دعوای ماموریت ومجددیت ہے اور دوسرے صفحہ پر اسی اردو مضمون کا انگریزی میں ترجمہ ہے اور جس خط کا اس میں ذکر ہے یہ وہ خط ہے جو اشتہار مذکور کے ساتھ حضور نے مختلف مذاہب کے لیڈروں اور پیشواؤں کے نام رجسٹرڈ کرا کر بھیجا تھا اور جس میں دو ہزار چار سو روپیہ ایک سال کے لئے بغرض نشان دیکھنے کے یہاں آ کر رہنے والے غیر مذہب کے ممتاز لوگوں کو دینے کا ذکر ہے۔