مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 535 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 535

مکتوبات احمد ۳۹۵ جلد سوم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ محجبی عزیزی اخویم نواب صاحب ستلمه نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔اللہ تعالیٰ آپ کو صبر اور استقامت بخشے اور اس مصیبت کا اجر عطا فرما دے۔دنیا کی بلائیں ہمیشہ نا گہانی ہوتی ہیں۔یہ نہایت ضروری ہے کہ جہاں تک جلد ممکن ہو آپ دوسری شادی کی تجویز کریں۔میں ڈرتا ہوں کہ آپ کو اس صدمہ سے دل پر کوئی حادثہ نہ پہنچے۔جہاں تک ممکن ہو کثرت غم سے پر ہیز کر یں۔دنیا کی بھی رسم ہے نبیوں اور رسولوں کے ساتھ بھی ہوتی آئی ہے۔اللہ تعالیٰ جس سے پیار کرتا ہے اس کو کسی امتحان میں ڈالتا ہے اور جب وہ اپنے امتحان میں پورا نکلتا ہے تو اس کو دنیا اور آخرت میں اجر دیا جاتا ہے۔ایک آپ کو اطلاع دینے کے لائق ہے کہ آج جو پیر کا دن ہے یہ رات جو پیر کی گزری ہے اس میں غالباً تین بجے کے قریب آپ کی نسبت مجھے الہام ہوا تھا اور وہ یہ ہے۔فَبِأَيِّ عَزِيزِ بَعْدَهُ تَعْلَمُونَ یہ اللہ جل شانہ کا کلام ہے۔وہ آپ کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اس حادثہ کے بعد اور کون سا بڑا حادثہ ہے جس سے تم عبرت پکڑو گے اور دنیا کی بے ثباتی کا تمہیں علم حاصل ہوگا۔درحقیقت اگر چہ بیٹے بھی پیارے ہوتے ہیں اور بھائی بہن بھی عزیز ہوتی ہیں لیکن میاں بیوی کا علاقہ ایک الگ علاقہ ہے جس کے درمیان اسرار ہوتے ہیں۔بیوی میاں ایک ہی بدن اور ایک ہی وجود ہو جاتی ہیں۔ان کو صدہا مرتبہ اتفاق ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی جگہ سوتے ہیں۔وہ ایک دوسرے کا عضو ہو جاتے ہیں۔بسا اوقات ان میں ایک عشق کی سی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔اس محبت اور با ہم انس پکڑنے کے زمانہ کو یا دکر کے کون سا دل ہے جو پُر آب نہیں ہو سکتا۔یہی وہ تعلق ہے جو چند ہفتہ باہر رہ کر آخر فی الفور یاد آتا ہے۔ایسے تعلق کا خدا تعالیٰ نے بار بار ذکر کیا کہ با ہم محبت اور انس کرنے کا یہی تعلق ہے۔تذکره صفحه ۲۶۹ مطبوعه ۲۰۰۴ء