مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 532 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 532

مکتوبات احمد ۳۹۲ جلد سوم مکتوب نمبر ۲ مخدومی و مکر می اخویم حضرت مولوی صاحب سلّمه السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته عنایت نامہ پہنچ کر باعث مشکوری ہوا۔عام طور پر لوگ آں مکرم کے استقلال کو بڑی تعجب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔در حقیقت اللہ جل شانہ کے بندے جو اس کی ذات پر تو کل رکھتے ہیں ان کے لئے خدا تعالیٰ کافی ہے کسی راجہ رئیس کا کیا پرواہ ہے۔جب کہ اس بات کو مان لیا خدا ہے اور ان صفتوں والا کہ ایک طرفتہ العین میں جو چاہے کر دیوے تو پھر ہم کیوں غم کریں اور زید وعمر کی بے التفاتی سے ہمارا کیا نقصان۔آپ کو اپنے بہت سے برکات کا مورد بنا دے کہ آپ نے اس عاجز کی اللہ وہ خدمت کی ہے کہ جس کی نظیر اس زمانہ میں ملنا مشکل ہے۔میں چاہتا ہوں کہ چونکہ انسان کے بعض اخلاق مخفیہ کا خلقت پر ظاہر ہونا کسی قسم کی تکلیف پر موقوف ہے اس لئے وہ رحیم و کریم اپنے مستقیم الحال بندوں پر حوادث بھی نازل کرتا ہے۔تا ان کے دونوں قسم کے اخلاق جو ایام راحت اور ایام رنج سے متعلق ہیں ظاہر ہو جاویں اسی وجہ سے ہم خدا تعالیٰ کے مشیت میں کھینچے چلے جاتے ہیں تا جو کچھ ہمارے اندر ہے ظاہر ہو جاوے۔اس عاجز کا پہلا خط جس میں ایک دو الہام درج ہیں شاید پہنچ گیا ہو گا۔۱۳ ستمبر ۱۸۹۲ء والسلام محمد خاکسار غلام احمد از قادیان تاریخ احمدیت جلد ۳ صفحه ۱۳۶، ۱۳۷ (جدید ایڈیشن) بحواله منقول از اخبار زمیندار ۱۹ نومبر ۱۹۳۲ء بحوالہ "برق آسمانی از مولوی ظہور احمد صاحب بگوی صفحه ۶۸