مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 514
مکتوبات احمد ۳۷۴ جلد سوم یوب بیگ کے لئے سخت بے قرار ہیں۔اس وقت میں ان کو بھی اس تار کی خبر نہیں دے سکتا کیونکہ کل سے وہ بھی تپ میں مبتلا ہیں اور ایک عارضہ حلق میں ہو گیا ہے۔مشکل سے اندر کچھ جاتا ہے۔اس کے جوش سے تپ بھی ہو گیا ہے۔وہ نیچے پڑے ہوئے ہیں اور میں اوپر کے دالان میں ہوں۔میری حالت تحریر کے لائق نہ تھی لیکن تار کے درد انگیز اثر نے مجھے اس وقت اُٹھا کر بٹھا دیا۔آپ کا اس میں کیا حرج ہے کہ اس کی ہر روز مجھ کو اطلاع دیں۔معلوم نہیں کہ جو میں نے ابھی ایک بوتل میں دوار وانہ کی تھی وہ پہنچی ہے یا نہیں۔ریل کی معرفت روانہ کی گئی تھی اور معلوم نہیں کہ مالش ہر روز ہوتی ہے یا نہیں۔آپ ذرہ ذرہ حال سے مجھے اطلاع دیں اور خدا بہت قادر ہے۔تسلی دیتے رہیں۔چوزہ کا شور بہ یعنی بچے خورد کا ہر روز دیا کریں۔معلوم ہوتا ہے کہ دستوں کی وجہ یہ ہے کہ کمزوری نہایت درجہ تک پہنچ گئی ہے۔۲۵ را پریل ۱۹۰۰ء والسلام الراقم خاکسار مرزا غلام احمد قادیانی نوٹ :۔یہ وہی خط ہے جس کا ذکر خاکسار نے اپنے خط مورخہ آخر ا پریل ۱۹۰۰ ء میں کیا ہے جو کہ مرحوم کے عین نزع کے وقت پہنچا اور عین اس آخری وقت یعنی حالت نزع میں موصول ہوا۔یہ خط مرحوم کو اس وقت پڑھ کے سنایا گیا اور اس کی آنکھوں اور ہونٹوں سے لگایا گیا اس کے معاً بعد اس کی رُوح جاں بحق تسلیم ہوئی۔گویا کہ اسی خط کی اُسے انتظار تھی اور پھر رفیق اعلیٰ سے جاملی إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ - ۲۸ ؍ جولائی ۱۹۳۵ء مرزا یعقوب بیگ ڈلہوزی