مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 509 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 509

مکتوبات احمد ۳۶۹ جلد سوم پہلے دوسرے جہاں میں بلایا گیا۔بھائی بھائی تو دنیا میں بہت ہوتے ہیں اور ایک بھائی کی وفات دوسرے بھائی کے لئے ایک بڑا بھاری صدمہ ہوتی ہے مگر اس بھائی مرحوم میں اور مجھ میں جو تعلق محبت اور یگانگت کا تھا میں دنیا کے برادرانہ رشتوں میں اس کی نظیر نہیں دیکھتا۔یہ کہنا کچھ مبالغہ نہ ہوگا کہ ہم میں سے ہر ایک دوسرے کا عاشق و شیدا تھا اور اس قدر دلی لگاؤ کی صرف ایک ہی وجہ تھی یعنی آج سے آٹھ نو سال پیشتر جب کہ مجھے ابھی داڑھی کا آغا ز شروع ہی ہوا تھا اور مرحوم ایوب بیگ مجھ سے بھی خوردسال تھا۔خدا تعالیٰ کے خاص فضل اور مہربانی سے اور ہمارے والدین کے خوش طالع سے آخری وقت کے امام کے قدموں تک ہماری پہنچ ہوئی۔اس پیر بزرگ نے غایت کرم اور کمال مہربانی سے ہم دونوں کو اپنے بچوں کی طرح کنار عاطفت میں لیا اور ہم کو بھی نہایت تکلف کے ساتھ اس نور سے بہرہ ور کیا جو اس کے اپنے سینہ میں روشن تھا اور ہم کو بھی اپنے زمرہ خدام میں شمولیت کا شرف بخشا ( ان دونوں پودوں پر خدا تعالیٰ کی رحمت کی بارش ہوتی رہی۔اور اس مرسل باغبان کے باغ میں پرورش پاتے رہے۔جس کے باغ کو کسی بیرونی آبپاشی کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے اندر ہی اندر ہر ایک درخت کی جڑ کے نیچے نہر چلتی ہے اور اس کو سیراب کرتی ہے اور اس الہی پیوند سے اور اس باغبان کی کوشش سے دونوں پودے بڑھے، پھولے اور سرسبز ہوئے۔ان کا رنگ و بونہایت خوشگوار اور دل و دماغ کو راحت بخشنے والا ہوا۔دردمند با غبان ان کو جب کبھی دیکھتا نہایت ہی خوش ہوتا۔یہاں تک کہ قضائے الہی سے ایک دن آندھی چلی اور ان دونوں درختوں میں سے چھوٹا پودا اکھاڑا گیا اور اس آندھی کے اندھیرے میں کوئی اس کو اٹھا کر لے گیا۔جب باغبان نے ادھر نظر کی تو اس کو نہ پایا۔نہایت متردد ہوا اور قریب تھا کہ درد سے آہ نکالے کہ خداوند ذوالجلال نے آواز دی کہ یہ پودا سب پودوں سے مجھے پسند آیا۔میں نے اس کو سفلی باغ سے اٹھا کر علوی باغ میں لگا لیا ہے۔یہ قبولیت کی خبر سن کر باغبان کا دل نہایت خوش ہوا اور اس ذرہ نوازی کا شکر بجالایا۔وہ تو نہایت خوش قسمت تھا کہ جس کی جڑھ بہشت میں جا لگی جس کو کبھی بھی انقطاع نہ ہوگا اور ابدالآباد تک بڑھے گا اور پھولے گا مگر ابھی دوسرے پودے اور دیگر درختوں کی ہستی معرض خطر میں ہے کہ ان کا کیا انجام ہو گا کہ وہ کھڑے کھڑے ہی سوکھ جاتے ہیں یا ان کو بھی اعلیٰ طبقات میں ہی جگہ ملتی ہے )۔اس مبارک پیوند کا نتیجہ یہ ہوا کہ صدق اور راستی سے محبت ہو گئی اور ہر ایک قسم کے جہل اور