مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 508 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 508

مکتوبات احمد ۳۶۸ سیرت ایوب کا مختصر خاکہ جلد سوم اس وقت جو میں عزیز مرحوم ایوب بیگ کی سیرت لکھ رہا ہوں میر اوہ خط جو کہ عین عزیز مرحوم کی وفات کے بعد میں نے آخر اپریل ۱۹۰۰ء میں الحکم میں چھپوایا تھا۔میرے سامنے ہے۔اس خط میں محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس ولی اللہ کے حالات کو گویا کہ ایک کوزہ میں بند کیا گیا ہے۔اس کے پڑھنے سے جو میرے دل کی حالت ہوئی ہے اور جو رقت اس وقت مجھ پر طاری ہے میں بیان نہیں کرسکتا۔خط کو پڑھتے پڑھتے میں کئی دفعہ سجدہ میں گرا اور مرحوم اور اُس کے والدین بلکہ کل مسلمانوں کے لئے بہت دعا کی اور اپنے خاتمہ بالخیر کے لئے بھی دعا کی۔پیشتر اس کے کہ احباب تک مکمل سیرت پہنچے۔یہ خط بغرض اشاعت ارسال ہے۔ممکن ہے کہ اہل دل کو اس سے فائدہ ہو اور حضرت مسیح موعود کی صداقت اور آپ کی برکات صحبت اس کے لئے سرمہ چشم بن سکیں۔آمین۔گوش کن گر اہل دل بشنو گر عاقلی شاید که نتوان یافتن دیگر چنیں ایام را دار السلام ڈلہوزی ۲۴ ؍ جولائی ۱۹۳۵ء مرحوم کی وفات پر خاکسار کا خط خاکسار مرزا یعقوب بیگ در حقیقت بس است یار یکے ہر که او عاشق یکے باشد دل یکے جاں یکے نگار یکے ترک و دنیا پیشش اند کے باشد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ برادران ! آج میرے لئے نہایت افسوس کا دن ہے کہ میں اپنے اس عزیز اور نہایت ہی پیارے بھائی کی وفات کا تذکرہ آپ کے سامنے کرتا ہوں جو کہ اپنی جوانی اور عین شباب کے ایام میں جب کہ وہ نونہال ابھی برگ و بر لانے کے قابل ہوا تھا یک لخت کاٹا گیا اور ہم سے اس دنیا میں ہمیشہ کے لئے دور ہو گیا اور پس ماندگان کے لئے داغ مفارقت چھوڑ گیا اور اپنی صرف پچیس سالہ عمر میں سب سے