مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 498 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 498

مکتوبات احمد ۳۵۸ جلد سوم لئے وجہ معاش کا ذریعہ۔جب دونوں مل جاویں پھر اور کسی چیز کی کیا ضرورت؟ ۴۔وہ پہلا موقع تو جاتا رہا تھا کیوں کہ میرے توقف کرنے سے مکرمی مفتی صاحب کی تجویز ہوگئی۔مگر اس کے بعد بھی دل میں یہی تڑپ لگی رہی کہ کسی طرح آں ہادی و مهدی زمان کے مبارک قدموں میں رہنے کا موقع ملے۔دل خاکسار تو پہلے ہی سے آتش محبت سے شعلہ زن ہوا تھا مگر اب یہاں آکر اور کچھ عرصہ یہاں رہ کر سچے دل کے ساتھ محسوس کیا ہے کہ خصوصاً میرے جیسے مذاق کے انسان کے لئے دارالامان سے باہر رہنا تو زندگی کا عبث گزارنا ہے۔خاکسار پہلے دو ماہ کی رخصت لے کر آیا تھا مگر دو ماہ کے گزرنے پر ہرگز دل نہ چاہا کہ وطن کا رُخ کروں کیونکہ وطن میں بے وطنی اور قادیان میں وطن نظر آتا ہے۔مجبوراً تین ماہ کی اور رخصت لی۔اس صورت میں اب چوتھا ماہ جا رہا ہے۔اب تو دن بدن دل کی یہ حالت ہے کہ یہاں سے نکلنا ایک موت نظر آتا ہے۔رات دن اسی دعا میں تھا کہ کوئی ایسی صورت نکلے کہ معمولی گزارہ چل سکے تو حضور کے مبارک قدموں میں رہنے کی سبیل بن جائے ، جو اصلی مدعا ہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ کہ ایک ایسا امر پیدا ہو گیا ہے کہ جس سے خاکسار کے گزارہ کی بھی پوری صورت پیدا ہوگئی ہے اور انتظام بھی مستقل ہے۔وہ یہ ہے کہ دفتر میگزین میں کلرک کی جگہ خالی تھی۔وہاں میرے قدیمی مکرم و محسن جناب مخدومی مولوی محمدعلی صاحب ایم۔اے نے عاجز کے لئے پچیس روپیہ ماہوار کی مستقل تجویز فرمائی ہے اور کل بالمواجہ پختہ وعدہ فرمایا ہے اور خود آپ ذمہ اُٹھایا ہے کہ جب تک میگزین کا وجود ہے بشرط زندگی اقل درجے پچیس روپیہ ماہوار تک میں تنخواہ دینے کا ذمہ دار ہوں اور اگر اس میگزین کے کام میں ترقی ہوتی گئی جو ضرور بفضلہ تعالیٰ ہوگی تو اس میگزین کی ترقی کے ساتھ تمہاری بہبودی و ترقی کا خیال بھی رہے گا۔اوّل تو وہی رازق حقیقی ہی ہر کسی کا کفیل ہے اور اپنے سچے دل وایمان کے ساتھ اسی کی کفالت پر نظر ہے اور نابکار جیسے متوکلوں کا تو خاص اُسی پر ہی بھروسہ ہے مگر مولوی صاحب موصوف نے بھی جو وعدہ فرمایا ہے اور ذمہ داری اُٹھائی ہے۔اس پر بھی خاکسار کو پوری تسلی ہو چکی ہے۔اوّل تو جس قادر مطلق کے ارادے و منشا سے اس میگزین کا پودہ لگایا گیا ہے وہ خود ہی اس کی ترقی ، استحکام و پا بجائی کی صورت و ذرائع پیدا کرتا رہے گا اور بفضلہ تعالی اس پودہ کی جڑیں