مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 44
مکتوبات احمد ۴۴ جلد سوم ( نوٹ ) اس مکتوب میں جس لڑکے کا ذکر آپ نے فرمایا ہے وہ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب رضی اللہ عنہ آپ کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ان ایام میں وہ نائب تحصیلدار تھے۔اس مکتوب میں آپ نے دعا کی قبولیت کے لئے یہ بھی ایک گر بتایا ہے کہ تعلقات اور ربط ایک ایسی چیز ہے جس کا قبولیت دعا سے بہت بڑا تعلق ہے۔نواب علی محمد خان مرحوم اس خط کو اپنی نوٹ بک میں رکھتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت اور آپ کے مقام قرب کے اظہار کے لئے ہر اس شخص کو دکھاتے تھے جن سے وہ حضرت اقدس کا ذکر کرتے تھے۔وہ آپ کے دلائل صداقت میں اپنے اس ذاتی نشان کا ذکر فرماتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس نشان کا ذکر اپنی کتاب نزول المسیح کے نشان نمبر ۹۳ میں کیا ہے۔اس کو میں یہاں اس لئے درج کر رہا ہوں تا پڑھنے والے کا ایمان بڑھے اور جس روک کے اُٹھائے جانے کا ذکر ہے۔مکتوب نمبر ۲ میں اس کے متعلق صاف ذکر موجود ہے۔د علی محمد خان صاحب نواب جھجر نے لدھیانہ میں ایک غلہ منڈی بنائی تھی۔کسی شخص کی شرارت کے سبب ان کی منڈی بے رونق ہوگئی اور بہت نقصان ہونے لگا۔تب انہوں نے دعا کے لئے میری طرف رجوع کیا لیکن پیشتر اس کے کہ نواب صاحب کی طرف سے میرے پاس کوئی خط اس خاص امر کے لئے دعا کے بارے میں آتا، میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر پائی کہ اس مضمون کا خط نواب موصوف کی طرف سے آ رہے گا۔چنانچہ میں نے اس واقعہ کی خبر اپنے خط کے ذریعہ سے نواب محمد علی خان کے مرحوم کو قبل از وقت دے دی اور ایسا اتفاق ہوا کہ اس طرف سے تو میرا خط روانہ ہوا اور اسی دن ان کی طرف سے اسی مضمون کا خط میری طرف روانہ ہو گیا جو میں نے خواب میں دیکھا تھا جس کی روانگی کی میں نے اسی وقت ان کو خبر دے دی تھی کہ گویا ایک ہاتھ سے انہوں نے ڈاک میں چٹھی ڈالی اور دوسرے ہاتھ سے وہی خط میرا ان کو مل گیا جس میں اس روانہ شدہ چٹھی کا مع مضمون اس کے ذکر تھا تب تو نواب محمد علی خان کے خط کو پڑھ کر ایک عالم سکتہ ۲۰۱ سہو کا تب ہے اصل نام علی محمد خان ہے۔(ناشر)