مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 43

۴۳ جلد سوم مکتوبات احمد عبارت بطور حکایت آں مخدوم کی طرف تھا۔میرے خیال میں یہ آپ ہی کی توجہ کا اثر ہے۔چنانچہ یہ خط کا مضمون اور مافی الضمیر کا منشاء تین ہندوؤں اور بہت سے مسلمانوں کو بھی بتلایا گیا اور زاں بعد آپ کا منی آرڈر اور خط بھی آگیا۔سو حضرت خداوند کریم کا پیش از وقوع آپ کے نام اور آپ کے منی آرڈر اور آپ کے خط اور آپ کے مضمون خط اور آپ کے مافی الضمیر سے مطلع فرمانا اس بات پر دلیل ہے کہ حضرت ارحم الراحمین کی آپ کے حال پر رحمت شامل ہے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ۔آں مخدوم کے لئے یہ عاجز دعا کرے گا اور آپ کے دلی اعتقاد اور ربط بھی قائم مقام دعا کا ہی ہو رہا ہے اور دلی دعا اور ربط کو خاص مدعا میں بہت دخل ہے اور جس سے دلی ربط اور توجہ ہوا گر چہ اس حق میں کسی وقت دعا نہ کرے تب بھی اثر ہو جاتا ہے۔مجھ کو یاد ہے اور شائد عرصہ تین ماہ یا کچھ کم و بیش ہوا ہے کہ اس عاجز کے فرزند نے ایک خط لکھ کر مجھ کو بھیجا کہ جو میں نے امتحان تحصیلداری کا دیا ہے اس کی نسبت دعا کریں کہ پاس ہو جائے اور بہت کچھ انکسار اور تذلل ظاہر کیا کہ ضرور ہی دعا کریں۔مجھ کو وہ خط پڑھ کر بجائے دعا کے غصہ آیا کہ اس شخص کو دنیا کے بارے میں کس قدر ہم وغم ہے۔چنانچہ اس عاجز نے وہ خط پڑھتے ہی یہ تمام تر نفرت اور کراہت چاک کر دیا اور دل میں کہا کہ دنیوی غرض اپنے مالک کے پیش کروں۔اس خط کے چاک کرتے ہی الہام ہوا کہ پاس ہو جائے گا وہ عجب الہام بھی اکثر لوگوں کو بتایا گیا۔چنانچہ وہ لڑ کا پاس ہو گیا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ۔سوخدا وند کریم کی عالیشان درگاہ میں نازک آداب ہیں۔جب کوئی عرض آداب کے مطابق صادر ہوتی ہے تو قبول ہو جاتی ہے اور ربط محبت و اعتقاد کرنا ان معاملات میں بہت کچھ دخل ہے۔صاحب محبت اور ارادت کے بہت سے ایسے آفات اور مکروہات بباعث عین محبت دور کئے جاتے ہیں کہ اس کی اس کو خبر نہیں ہوتی۔نواب صاحب مالیر کوٹلہ کا اب تک کچھ روپیہ نہیں آیا۔مناسب ہے کہ آں مخدوم تا کیدی طور پر ان کو یا ددلائیں۔والسلام ☆ ۱۱ مئی ۱۸۸۴ء خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان تذکره صفحه ۹۵ مطبوعه ۲۰۰۴ء الحکم نمبر ۱۰ جلد۳۷ مورخه ۲۱ / مارچ ۱۹۳۴ء صفحه ۹