مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 41
مکتوبات احمد جلد سوم مکتوب نمبر ۲ یہ حصہ مکتوب دراصل میر عباس علی صاحب کے مکتوب کا ایک حصہ تھا مگر چونکہ نواب صاحب کے متعلق تھا اس لئے میں نے اسے علیحدہ نمبر دے کر یہاں درج کر دیا۔(عرفانی کبیر ) نواب صاحب کے بارے میں جو آپ نے دریافت فرمایا ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ نواب صاحب کے لئے یہ عاجز ایک مدت تک بہت تضرع سے دعا کرتا رہا ہے۔ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ نواب صاحب کی حالت غم سے خوشی کی طرف مبدل ہوگئی ہے اور آسودہ حال اور شکر گزار ہیں اور نہایت عمدگی اور صفائی سے یہ خواب آئی اور یہ خواب بطور کشف تھی۔چنانچہ اسی صبح نواب صاحب کو اس خواب کی اطلاع دی گئی۔پھر ایسا اتفاق ہوا کہ ایک صاحب الہی بخش نام اکومنٹٹ نے جو اس کتاب کے معاون ہیں کسی اپنی مشکل میں دعا کے لئے درخواست کی اور بطور خدمت پچاس روپے بھیجے اور جس روز خواب آئی اس دن سے دو چار دن پہلے ان کی طرف سے دعا کے لئے الحاح ہو چکی تھی۔دیگر یہ عاجز نواب صاحب کے لئے مشغول تھا۔اس لئے ان کے لئے دعا کرنے کو کسی اور وقت پر موقوف رکھا۔جس روز نواب صاحب کے لئے بشارت دی گئی تو اس دن خیال آیا کہ آج منشی الہی بخش کے لئے بھی توجہ سے دعا کریں۔سو بعد نماز عصر وقت صفا پایا اور دعا کا ارادہ کیا گیا تو پھر بھی دل نے یہی چاہا کہ اس دعا میں نواب صاحب کو بھی شامل کر لیا جاوے۔سواس وقت نواب صاحب اور منشی الہی بخش دونوں کے لئے دعا کی گئی۔بعد دعا اسی جگہ الہام ہوا کہ نُنَجِّيْهِمَا مِنَ الْغَم کے یعنی ہم ان دونوں کو غم سے نجات دیں گے۔چونکہ یہ عاجز اسی دن صبح کے وقت نواب صاحب کی خدمت میں خط روانہ کر چکا تھا اور بذریعہ رویائے صادقہ نواب صاحب کو بہت تسلی دی گئی تھی۔اسی لئے اسی خط پر کفایت کی گئی اور منشی الہی بخش کو اس الہام سے اطلاع دی گئی اور بر وقت صدور اس الہام کے موجود تھے اور اتفاقاً دو ہند و ملا وامل اور شرمیت نامی بھی کہ جو اکثر آیا جایا کرتے ہیں۔عین اس وقت پر موجود تھے۔ان کو بھی اسی وقت اطلاع دی گئی اور کئی مہمان آئے ہوئے تھے ان کو بھی خبر دی گئی۔پھر چند روز کے بعد نواب صاحب کا خط آگیا کہ سرائے تذکره صفحه ۹۸ مطبوعه ۲۰۰۴ء