مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 446
مکتوبات احمد ۳۰۶ جلد سوم کجاشد دریغ آن زمان وصال کجاشد چنان خرم آں ماہ و سال افسوس! وہ ملاقات کا زمانہ کہاں گیا اور وہ مبارک مہینہ اور سال کدھر چلا گیا بدستم از آن جز خیالی نماند از آں جام کے یک سفالے نماند میرے ہاتھ میں سوائے اس کے خیال کے کچھ بھی نہ رہا اور اس جام شراب کی ایک ٹھیکری بھی باقی نہ رہی در میں کوشه چون یادِ یاراں کنیم ردو دیده چو ابر بہاراں اس سنج تنہائی میں جب ہم دوستوں کو یاد کرتے ہیں تو دونوں آنکھوں کو ابر بہار کی طرح بنا دیتے ہیں یسے دل خود بدنیا چه بندد کسے که ایام الفت ندارد کوئی اس دنیا سے اپنا دل کیا لگائے کہ محبت کے دن زیادہ باقی نہیں رہا کرتے چه فرق است در روز و شب جز که یار فتد خاک بر فرق این روزگار یار کے بغیر دن اور رات میں فرق ہی کیا ہے؟ اس زمانہ کے سر پر خاک پڑے دست دعا پیش حق گسترم که چهرت نماید بفضل و کرم میں اپنے دونوں ہاتھ خدا کے حضور میں پھیلاتا ہوں کہ وہ اپنے فضل و کرم سے تیرا چہرہ دکھائے بمكتوب گہ کہ بکن شاد کام خط و نامه با ما چرا شد حرام کبھی کبھی خط لکھ کر ہمیں خوش وقت کر دیا کر۔تو نے ہمیں خط بھیجنا کیوں ترک کر دیا دگر آنچہ تحریر کرد آن رفیق کرم گسترد رو و مهربان و شفیق جو لکھا ہے نیز آن مکرم کرم فرما!! مہربان اور شفیق نے که از بحث دیں زاں نکردیم یاد خوف ملال تو در دل فتاد کہ ہم نے اس لئے اس خط میں دین کی بحث کا ذکر نہیں کیا کہ ہمارے دل میں ناراضگی پیدا نہ ہو ( تو واضح ہو ) من آن نیستم کز رو بغض و کیس برنجم ز تحریک در بحث دیں کہ میں ایسا انسان نہیں ہوں کہ دشمنی اور کینہ وری کی وجہ سے دینی مباحث کی تحریک سے ناراض ہو جاؤں ترا ناحق ایں این بدگمانی فتاد درون کیسے بدگماں ہم مباد آپ کو ناحق یہ بدگمانی لاحق ہوئی۔خدا کرے کسی کا دل بدظن نہ ہو