مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 444 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 444

مکتوبات احمد ۳۰۴ که یاد من خسته کردی ز دور فرستاده نامة ہمچو حور سے اختفا کیونکہ تو نے اس عاجز کو اتنی دور سے یاد کیا اور ایک خط جو حور کی طرح حسین ہے مجھے بھیجا چناں نظم و نثرش که مانند آن ندیدم بعمر خود اندر جہاں اس کی نظم اور نثر ایسی تھی کہ اس جیسی میں نے کبھی دنیا میں نہیں دیکھی صفاہا چناں اندر آں بیش بیش که حاسد به بیند در آن روئے خویش اس میں ایسی اعلیٰ درجہ کی صفائی ہے کہ دشمن اس میں اپنا منہ دیکھ سکتا ہے ظہوری گر آگہ شدے زاں صفا نشستے پس زانوئے اگر ظہوری شاعر اس صفائی واقف ہو جاتا تو وہ منہ چھپا کر بیٹھ جاتا چنان در سخن صفوت و بندوبست که عقد گہر را دهد صد شکست آپ کی باتوں میں ایسی چمک اور ایسی ترتیب ہے کہ وہ موتیوں کے ہار کو بھی مات کرتی ہے تو گفتی سریری است صفوت اساس مرضع ز یاقوت و مرجان و ماس گویا وہ ایک ایسا چیدہ اور منتخب تخت ہے جو یاقوت، مرجان اور الماس سے جڑا ہوا ہے ز ہے نحو آن بود نحو سداد ہمہ منطقم صرف آن نحو باد واہ وا اس کی نحو کیسی اعلیٰ نحو ہے کہ میری ساری گویائی اس محو پر قربان ہے سخن را ازاں گونه آراسته نمی آید از پیر نوخاسته اس میں کلام کو اس طرح آراستہ کیا گیا ہے کہ اور کوئی نہیں کر سکتا خواہ بوڑھا ہو یا جوان سخن کو نمودست در عدن رسانید لفظ سخن کلام سے گویا ایک در عدن ظاہر ہو گیا جس نے الفاظ کو معانی تک پہنچا دیا سخن نام دریافت زاں نامہ رہے پختگی ہائے آں خامہ اس خط سے سخن نے نام پایا۔ واہ وا اور اس تحریر کی پختگی کے کیا کہنے لے نوٹ : ان ہر دوشعروں میں کاغذ کے بوسیدہ ہو کر پھٹ جانے کے سبب پہلے دو دو لفظ معلوم نہ تھے ۔ منشی ظفر احمد صاحب نے نقل کے وقت سیاق و سباق کے مطابق یہ الفاظ لکھ دیئے ہیں۔ به معنے و جلد سوم