مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 443
مکتوبات احمد جلد سوم مکتوب نمبرا مکتوب در مسئلہ حیات النبی صلی اللہ علیہ وسلم سپاس آں خداوند یکتائے رابمہر بمہر و و بمہ عالم آرائے را اس بے مثل خداوند کا شکر ہے جس نے دنیا کو چاند اور سورج سے آراستہ کیا بهر لحظه امید یاری از وست بہر حالتے دوست داری از دست ہے ہمیں ہر وقت اس کی طرف سے مدد کی امید ہے اور ہر حالت میں اسی سے محبت کا تعلق جہاں جملہ یک صنعت آباد اوست خنک نیک بخته که در یادِ اوست سارا جہاں اسی کی کاریگری کا مظہر ہے خوش قسمت ہے وہ نیک بخت جو اس کی یاد میں رہتا۔رسول خدا پر تو از نور اوست ہمہ خیر ما زیر مقدور اوسر رسول اللہ اس کے نور کا پرتو ہیں اور ہماری ساری بھلائیاں انہیں کے ساتھ وابستہ ہیں بست نقش نقش جہاں ہماں سرور و سید و نور جاں محمد کزو محمد کزو بست وہی سردار، سید اور جاں کا نور محمد ہے جس کی وجہ سے جہان کی تخلیق ہوئی نہ بودے اگر چون محمد بشر بشر کے بدے از ملک نیک تر کیوں کر بڑھ جاتا اگر محمد سا بشر پیدا انسان فرشتے دلش هست نورانی و سرمدی : ہوتا بتابد درو فرة ایزدی اس کا دل نورانی اور ازلی ہے اور اس میں خدا کی عظمت اور شان چمکتی کے کش بود مصطفی رہنما سر بخت بخت او باشد اندر ہ شخص جس کا رہنما مصطفیٰ ہو اس کا نصیبہ بلندی میں آسمان تک پہنچتا وہ ہے سماء نکسار از یاد او هست جان و بخواب اندر اندیشہ ہم میرے جان و دل اس کی یاد سے معمور ہیں خواب میں بھی مجھے کوئی دوسرا خیال نہیں آتا شفیق کرم گستر و ہم طریق ہم رہ پس از وے سلامم بتو اے شفیق و اس کے بعد اے مہربان اور شفیق اور ہم خیال دوست میں تجھے سلام کہتا ہوں