مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 441
مکتوبات احمد ۳۰۱ مولوی اللہ دیتا صاحب لودی نگل رضی اللہ تعالی عنہ کے نام تعارفی نوٹ مولوی الله د تا صاحب لودی منگل ضلع گورداسپور کے رہنے والے تھے۔آپ کے صاحبزادے مولوی حکیم نور محمد صاحب رضی اللہ عنہ جو ایک حکیم حاذق اور جید عالم تھے سلسلہ عالیہ احمدیہ میں ایک بہترین مبلغ تھے۔مولوی الہ دتا صاحب اہلِ حدیث مشرب کے تھے اور آپ کے صاحبزادہ حضرت مولوی نوراحمد صاحب بھی فرقہ اہلِ حد حدیث میں ممتاز تھے۔۱۸۷۲ء میں حضرت اقدس (علیہ الصلوۃ والسلام ) نے مولوی الہ دتا صاحب مرحوم کو حضرت مرزا سلطان احمد صاحب اور مرز افضل احمد صاحب کی تعلیم کے لئے بلایا تھا اس لئے کہ وہ ایک جید عالم تھے۔مولوی الہ دتا صاحب جب قادیان میں آئے تو اکثر حضرت اقدس سے بعض مسائل پر تبادلہ خیالات بھی ہوا کرتا تھا۔اس زمانہ میں فرقہ اہل حدیث ( جو اس وقت وہابی مشہور تھے ) کے لوگ بڑے خشک سمجھے جاتے تھے اور وہ تقلید و عدم تقلید کے مسائل میں متشدّ دواقع ہوئے تھے۔روحانیت کے ساتھ انہیں دلچسپی نہ تھی۔ظاہری امور پر زور دیتے تھے جیسے مسیح ناصری علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد میں فقیہ اور فریسی ہوتے تھے۔مولوی الہ دتا صاحب زیادہ عرصہ تک قادیان میں نہ رہ سکے اور اس کام کو چھوڑ کر چلے گئے مگر حضرت اقدس سے ان کو محبت اور اخلاص تھا اور حضرت اقدس کے زُہد و ورع کے وہ قائل تھے۔واپس جانے کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے حضرت اقدس کو ایک منظوم خط لکھا اور وہ فارسی زبان میں تھا۔حضرت اقدس نے اس کا جواب فی البد یہ فارسی نظم میں لکھ کر بھیج دیا اس خط کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کے اس وقت بھی قائل تھے اور آپ کو زندہ نبی یقین کرتے تھے۔جلد سوم اس خط سے اس محبت وعقیدت کا بھی پتہ چلتا ہے جو آپ کو نبیوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم