مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 437 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 437

مکتوبات احمد ۲۹۷ جلد سوم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میرے نزدیک یہ ارادہ ہرگز مناسب نہیں۔اس سے خود غرضی اور دنیا طلبی سمجھی جاتی ہے۔آپ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ مدرسہ محض دینی اغراض کی وجہ سے ہے اور صبر سے اس میں کام کرنے والے خدا تعالیٰ کی رحمت سے نزدیک ہوتے جاتے ہیں۔چونکہ یہ مدرسہ نیک نیتی سے محض دینی تخم ریزی کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے اس لئے میرے خیال میں استعفا دینے والوں کے استعفا سے اس کا کچھ بھی حرج نہ ہو گا۔خدا تعالیٰ اس کے لئے اور خدمت کرنے والا پیدا کر دے گا لیکن اگر کوئی اس مدرسہ سے الگ ہو کر اپنی دنیا طلبی میں اِدھر اُدھر خراب ہوگا تو وہ رفتہ رفتہ دین سے دور ہو جائے گا۔چاہئے کہ صبر کے ساتھ گزارا کریں۔اگر خدا تعالیٰ اس قدر لیاقت نہ دیتا تب بھی تو پانچ سات روپیہ میں گزارہ کرنا ہوتا بلکہ میں نے آپ کے امتحان کی ناکامیابی کے وقت سوچا تھا کہ اس میں کیا حکمت ہے تو میرے دل میں یہی حکمت خیال آئی تھی کہ تا دنیوی طمع کا دامن کم کر کے دین پیش کیا جاوے۔پس امتحان میں پاس نہ ہونا ایسا ہی تھا جیسا کہ خضر نے کشتی کا تختہ توڑ دیا تھا تا عمدہ حالت میں ہو کر غیروں کے ہاتھ میں نہ جاپڑیں۔اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر آپ اس جگہ سے استعفا دو گے تو عیالداری کے لحاظ سے قادیان کو چھوڑنا ہی پڑے گا اور یہی صورت دینی تعلقات سے دور ہونے کے لئے مد ہو جائے گی۔صحابہ رضی اللہ عنہم کی حالت سب خدا کے لئے ہو گئی تھی مگر اس زمانہ میں اس قدر غنیمت ہے کہ اس جماعت کی ایسی حالت ہو جائے کہ کچھ خدا کے لئے اور کچھ دنیا کے لئے ہوں۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد