مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 427
مکتوبات احمد ۲۸۷ جلد سوم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جان جانے کی کچھ پرواہ نہ کی۔پس حقیقی پیری مریدی کا یہی احوال ہے اور صادق اسی سے شناخت کئے جاتے ہیں کیونکہ خدا کا قدیمی احوال ہے کہ قوت عشقیہ صادقوں کے دلوں میں ضرور ہوتی ہے تا وہ بچے غم خوار بننے کے لئے لائق ٹھہر میں جیسے والدین اپنے بچہ کے لئے ایک قوتِ عشقیہ رکھتے ہیں تو ان کی دعا بھی اپنے بچوں کی نسبت قبولیت کی استعداد زیادہ رکھتی ہے۔اسی طرح جو شخص صاحب قوت عشقیہ ہے وہ خلق اللہ کے لئے حکم والدین رکھتا ہے اور خواہ نخواہ دوسروں کا غم اپنے گلے میں ڈال لیتا ہے کیونکہ قوت عشقیہ اس کو نہیں چھوڑتی اور یہ خدا وند کریم کی طرف سے ایک انتظامی بات ہے کہ اس نے بنی آدم کو مختلف فطرتوں پر پیدا کیا ہے۔مثلاً دنیا میں بہادروں اور جنگجو لوگوں کی ضرورت ہے سو بعض فطرتیں جنگ جوئی کی استعداد رکھتی ہیں۔اسی طرح دنیا میں ایسے لوگوں کی بھی ضرورت ہے کہ جن کے ہاتھ پر خلق اللہ کی اصلاح ہوا کرے سو بعض فطرتیں یہی استعداد لے کر آتی ہیں اور قوتِ عشقیہ سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى الْآلَاءِ ظَاهِرُهَا وَبَاطِنُهَا - ۲۱ رمئی ۸۳ء بمطابق رجب ۱۳۰۰ھ م الحکم نمبر ۲۴ ۲۵ جلد ۲ مورخه ۲۰، ۲۷ /اگست ۱۸۹۸ء صفحه ۱۲ خاکسار مرزا غلام احمد