مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 426
مکتوبات احمد ۲۸۶ جلد سوم مکتوب نمبرا بخدمت مخدومی مولوی عبد القادر صاحب! بعد سلام مسنون عرض یہ ہے کہ جو کچھ آپ نے سمجھا ہے نہایت بہتر ہے۔دنیا میں دعا جیسی کوئی چیز نہیں۔الدُّعَاءُ مُخُ الْعِبَادَةِ ہے یہ عاجز اپنی زندگی کا مقصد اعلیٰ یہی سمجھتا ہے کہ اپنے لئے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کے لئے ایسی دعائیں کرنے کا وقت پاتا رہے کہ جو رب العرش تک پہنچ جائیں اور دل تو ہمیشہ تڑپتا ہے کہ ایسا وقت ہمیشہ میسر آجایا کرے مگر یہ بات اپنے اختیار میں نہیں۔سواگر خدا وند کریم چاہے گا تو یہ عاجز آپ کے لئے دعا کرتا رہے گا۔یہ عاجز خوب جانتا ہے کہ سچا تعلق وہی ہے جس میں سرگرمی سے دُعا ہے۔مثلاً ایک شخص کسی بزرگ کا مرید ہے مگر اس بزرگ کے دل میں اس شخص کی مشکل کشائی کے لئے جوش نہیں اور ایک دوسرا شخص ہے جس کے دل میں بہت جوش ہے اور وہ ایسے کام کے لئے ہو رہا ہے کہ حضرت احدیت سے اس کی رستگاری حاصل کرے۔سوخدا کے نزدیک سچا رابطہ یہ شخص رکھتا ہے۔غرض پیری مریدی کی حقیقت یہی دعا ہے۔اگر مرشد عاشق کی طرح ہو اور مرید معشوق کی طرح ، تب کام نکلتا ہے یعنی مرشد کو اپنے مرید کی سلامتی کے لئے ایک ذاتی جوش ہو ، تا وہ کام کر دکھا دے۔سرسری تعلقات سے کچھ ہو نہیں سکتا۔کوئی نبی اور ولی قوتِ عشقیہ سے خالی نہیں ہوتا یعنی ان کی فطرت میں حضرت احدیت نے بندگان خدا کی بھلائی کے لئے ایک قسم کا عشق ڈالا ہوا ہوتا ہے۔پس وہی عشق کی آگ ان سے سب کچھ کراتی ہے اور اگر ان کو خدا کا یہ حکم بھی پہنچے کہ اگر تم دعا اور غم خواری خلق اللہ نہ کرو تو تمہارے اجر میں کچھ قصور نہیں تب بھی وہ اپنے فطرتی جوش سے رہ نہیں سکتے اور ان کو اس بات کی طرف خیال بھی نہیں ہوتا کہ ہم کو اس جان کنی سے کیا اجر ملے گا کیونکہ ان کے جوشوں کی بنا کسی غرض پر نہیں بلکہ وہ سب کچھ قوت عشقیہ کی تحریک سے ہے اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ کے خدا اپنے نبی کو سمجھاتا ہے کہ اس قدر غم اور درد کہ تو لوگوں کے مومن بن جانے کے لئے اپنے دل پر اُٹھاتا ہے، اس سے تیری جان جاتی رہے گی۔سو وہ عشق ہی تھا جس ترمذى كتاب الدعوات الشعراء :