مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 37

مکتوبات احمد ۳۷ جلد سوم اور معتقدوں نے نواب صاحب کے اقرباء کو کہلا بھیجا کہ اگر مرزا ( امام موعود علیہ السلام) جنازہ پر آیا تو ہم اور کوئی مسلمان جنازہ پر نہ آئیں گے اور تم پر کفر کا فتو ی لگ جاوے گا اور آئندہ تم میں سے جو مرے گا تو نماز جنازہ کوئی نہ پڑھے گا۔وہ بیچارے ڈر گئے اور یہ خیال نہ کیا کہ ان یہو دصفت مولویوں کی کیا مجال ہے کہ ایسا کر سکیں؟ کیا یہ ہمیشہ زندہ رہیں گے؟ اور کیا اور کوئی بندہ خدا کا نماز جنازہ پڑھانے والا نہ ملے گا؟ اور حضرت اقدس علیہ السلام کے مرید لودہا نہ میں نہیں ہیں؟ ان کی کمزوری اور ضعف ایمانی نے ان کو ڈبو دیا۔وہ مرحوم بھی ان سے متنفر تھا اور جب ان مولویوں کا ذکر کبھی مرحوم کے روبرو کوئی کرتا تو مرحوم کی پیشانی پر بل پڑ جاتے تھے اور وہ اُن کو بدتر سے بدتر خیال کرتا تھا۔ان اَشَرُّ النَّاس مولویوں کی نماز سے تو بے نماز ہی جنازہ رہتا تو بہتر تھا اس لئے کہ مسیح وقت علیہ السلام خود دعائیں کر چکا اور مرحوم دعائیں کرا چکا اور نماز جنازہ بھی تو ایک دعا ہی ہے۔ایمان ایک ایسی شے بے بہا ہے کہ کوئی شے اس کو دور نہیں کرسکتی۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی ایمان پر اس دنیا سے رخصت ہو تو اس کو بول و براز میں پھینک دے تو اس کا کچھ نہیں بگڑتا اور اگر کوئی بے ایمان مرے تو کیسے ہی اُس کو عطر و گلاب میں رکھے تو اس کو کچھ فائدہ نہیں پہنچتا۔پھر یہ حدیث شریف پڑھتے۔الْقَبَرُ رَوْضَةٌ مِّنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ اَوْ حُفْرَةٌ مِّنْ حُفَرِ النِّيْرَانِ الغرض حضرت اقدس نے نواب صاحب کے جنازہ کی نماز اپنے مکان پر پڑھی اور دعاء مغفرت و رحمت بہت کی۔جنازہ کی نماز جو حضرت اقدس علیہ السلام پڑھاتے تھے۔سبحان اللہ ! کیسی عمدہ اور باقاعدہ موافق سنت پڑھاتے تھے۔(عرفانی) ل سنن الترمذى كتاب صفة القيامة والرقاق والورع باب ۲۶ حدیث ۲۴۶۰ صفحہ ۶۶۷ - الطبعة الاولی۔مطبع دار الاحیاء التراث العربی بیروت