مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 36 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 36

مکتوبات احمد جلد سوم نواب صاحب نے دعا و سلامتی ایمان اور نجات آخرت کے لئے ایک آدمی حضرت اقدس کی خدمت میں بھیجا اور جوں جوں وقت آتا جاتا تھا۔آدھ آدھ گھنٹہ اور دس دس منٹ کے بعد آدمی بھیجتے رہے اور کہتے رہے کہ میں بڑا خوش ہوں کہ آپ میرے اخیر وقت میں لود ہا نہ تشریف رکھتے ہیں اور مجھے دعا کرانے کا موقع ملا۔پھر بیہوشی طاری ہوگئی لیکن جب ذرا بھی ہوش آتا تو کہتے کہ حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں آدمی جائے اور عاقبت بخیر اور اچھے انجام کے لئے عرض کرے۔اور جب حالت نزع طاری ہوئی تو یہ وصیت کی کہ میرے جنازہ کی نماز حضرت مرزا صاحب پڑھائیں تا کہ میری نجات ہو۔ادھر حضرت اقدس بھی نواب صاحب کے لئے بہت دعائیں کرتے رہے اور ہر بار آدمی سے یہی فرماتے رہے کہ ہاں ہاں! تمہارے واسطے دعائیں کیں اور کر رہا ہوں اور یہ وصیت نماز جنازہ بھی حضرت اقدس تک پہنچادی اور نواب صاحب مرحوم کا انتقال ہو گیا۔جب نواب صاحب کا انتقال ہوا تو نواب صاحب کے اقرباء ان کی اولاد اور بھائی مولویوں کے زیراثر اور مرعوب تھے اور مولوی محمد اور مولوی عبد اللہ اور مولوی عبدالعزیز یہ تینوں حضرت اقدس علیہ السلام کے مکفر اور مکفرین اولین میں سے تھے۔تینوں یہود صفت بلکہ ان سے بھی بڑھ چڑھ کر تھے اور اُس وقت سے مکفر اور سخت مخالف تھے کہ جب سے براہین احمدیہ شائع ہوئی تھی۔تمام مولوی خاموش یا موافق تھے۔مگر یہ بدقسمت اور ایک بد بخت مولوی غلام دستگیر قصوری مخالف ، تکفیر کے علاوہ سب وشتم کرنے والے تھے اور ان مولویوں کی یہ عادت تھی کہ جو مولوی در ویش لودہا نہ میں آیا اور ان سے مل لیا تو خیر اور جو نہ ملا تو بس اُس کو کفر کا نشانہ بنایا۔یہ تینوں مثلث مولوی اس آیت کے مصداق تھے کہ انْطَلِقُوا إلى ظِلَّ ذِى ثَلَكِ شُعَبٍ لَّا ظَلِيلٍ وَ لَا يُغْنِی مِنَ اللَّهَبِ۔چلو اس تین رُفے سایہ کی طرف جس میں نہ سایہ ہے ، نہ ٹھنڈک ہے اور نہ گرم لپٹ سے بچاؤ کی کوئی صورت ہے۔انہوں نے اُس زمانہ میں حضرت اقدس علیہ السلام کی مخالفت میں ایک قیامت برپا کر رکھی تھی۔ان مولویوں کو بھی خبر نواب صاحب کی وصیت نماز جنازہ پہنچ چکی تھی۔ان مولویوں المرسلت: ۳۲،۳۱