مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 35

مکتوبات احمد ۳۵ جلد سوم کی اس جماعت میں ممتاز تھے۔چونکہ صوفی مشرب تھے اور حضرت صاحبزادہ سراج الحق صاحب جمالی نعمانی کے خاندان سے بھی انہیں ارادت و عقیدت تھی اس لئے صاحبزادہ صاحب جب بھی لو د ہا نہ آتے ان کے ہاں ہی قیام فرماتے۔ان کے خاندان کے بعض لوگ پیر صاحب کے سلسلے میں مرید بھی تھے۔اگر چہ اس تعارفی نوٹ کا مقصد سوانح حیات کا بیان نہیں تاہم میں اس نوٹ کو بھی درج کر دینا ضروری سمجھتا ہوں جو صاحبزادہ مرحوم نے مغفور نواب صاحب کے متعلق اپنے سفر نامہ میں لکھا ہے تا کہ احباب کو ایسے بزرگ کے لئے جو سلسلہ کی بنیادی اینٹوں میں سے ایک ہیں اور جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اور حضرت اقدس جن سے محبت رکھتے تھے۔دعا کی خاص تحریک ہو اور میں اُذْكُرُوا مَوْتَاكُمُ بِالْخَيْرِ کے ارشاد کی تعمیل کا ثواب حاصل کر سکوں۔وَبِاللهِ التَّوْفِيقِ نواب صاحب موصوف حکمت اور تصوف میں اور علوم شرعیہ میں ید طولیٰ رکھتے تھے اور خصوصاً تصوف میں ایسی معرفت رکھتے تھے کہ میں نے سینکڑوں درویش صوفی دیکھے مگر معلومات اور یہ دستگاہ نہیں دیکھی۔نواب صاحب اہل اللہ کے بڑے معتقد تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق جانباز تھے۔ہر وقت درود شریف پڑھتے رہتے۔با وجود اس قدر وسیع معلومات اور تصوف میں ماہر ہونے کے حضرت اقدس علیہ السلام سے اعلیٰ درجہ کا عشق تھا اور پورا اعتقاد رکھتے تھے۔نواب صاحب اکثر کہا کرتے تھے کہ جو بات میں نے حضرت میرزا غلام احمد صاحب قادیانی میں دیکھی وہ کسی میں نہیں دیکھی۔بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اگر کوئی شخص ہے تو یہی ہے۔اس کی تحریر میں نور اور ہدایت ، اس کے کلام میں، اس کے چہرہ میں نور ہے۔ایک روز میں نے نواب صاحب سے اپنا کشف بیان کیا جو آگے آئے گا۔تو اس کو سن کر نہایت خوش ہوئے اور وہ کشف لوگوں سے بیان کیا اور وہ کشف حضرت اقدس کی تصدیق میں تھا۔حضرت اقدس علیہ السلام بھی کبھی کبھی نواب صاحب سے ملنے جایا کرتے تھے اور نواب صاحب بھی آپ سے ملنے کے لئے اکثر آیا کرتے تھے۔نواب صاحب کے انتقال کے وقت حضرت اقدس علیہ السلام لودہا نہ میں تشریف رکھتے تھے۔بوقت انتقال