مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 401
مکتوبات احمد دوہرا کر فرمایا۔۲۶۳ 66 جلد سوم هُوَ صَادِقٌ هُوَ صَادِقٌ۔هُوَ صَادِقٌ “ یعنی مرزا غلام احمد تو بچے ہیں۔مرزا غلام احمد تو سچے ہیں۔مرزا غلام احمد تو سچے ہیں۔یہ جواب’ پیر سائیں جھنڈے والے صاحب نے جناب سیٹھ اسمعیل آدم صاحب آف بمبئی کے پاس یہ لکھ کر کہ یہ ہے سچی گواہی جو ہمارے پاس ہے۔ہم آپ کی قسم سے سبکدوش ہو گئے۔مانا نہ ماننا آپ کا کام ہے۔“ ( راقم رشید الدین پیر صَاحِبُ الْعَلَمُ ) بھیج دیا۔یہ جواب پہنچنا تھا کہ سیٹھ اسمعیل صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر لی اور آپ کے حلقہ اطاعت میں داخل ہو گئے۔سلسلہ بیعت میں داخل ہونے کے بعد کل کا اسماعیل بالکل بدل گیا اور حقیقی معنوں میں ابدال ہو گیا۔قابلیت موجود تھی ، اخلاص تھا۔اس سلسلہ میں آکر ترقی کرتا چلا گیا اور وہ پھر بمبئی کے سلسلہ کا آدم قرار پایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عاشقانہ رنگ میں اخلاص ہے اور سلسلہ کی خدمت میں انہوں نے بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں۔ان کی تفصیل کتاب تعارف میں آئے گی۔خلافت ثانیہ کی اوّل ہی بیعت کر لی مگر بعد میں شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم اور دوسرے لا ہوری احباب کے اثر میں لاہور سے تعلق رہا مگر قادیان سے قطع تعلق کیا نہ فسخ بیعت۔بالآخر اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی کہ اصل مرکز سے کامل طور پر وابستہ ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی سیٹھ صاحب سے بڑی محبت تھی اور اس محبت کے اظہار کو خاکسار عرفانی نے بارہا دیکھا۔۱۸۹۸ء سے مجھے شرف ملاقات نصیب ہوا اور اس تعلق مودت و اخوت میں ہر نئے دن نے ترقی بخشی۔اب ہم دونوں ستر سے اوپر جارہے ہیں اور خدا کا شکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں ہو کر ایک ہی باپ کے بیٹے ہیں۔ذیل کے خطوط انہیں کے نام ہیں اور حضرت سیٹھ صاحب اب کاروباری سلسلہ سے ریٹائر ہو کر سلسلہ کے کاموں میں مصروف ہیں اور جماعت احمدیہ بمبئی کے امیر ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو خدمت سلسلہ کے لئے تا دیر سلامت رکھے۔آمین۔(خاکسار عرفانی کبیر)