مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 393
مکتوبات احمد ۲۵۵ جلد سوم ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میری شادی کی تیاری ہوئی تو میں دہلی کے شفا خانہ میں ملازم تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس کے متعلق خط و کتابت ہوتی تھی۔میں پہلے اس جگہ راضی نہ تھا۔آپ نے مجھے ایک خط میں لکھا کہ اگر تمہیں یہ خیال ہو کہ لڑکی کے اخلاق اچھے نہیں ہیں تو پھر بھی تم اس جگہ کو منظور کر لو۔اگر اس کے اخلاق پسند یدہ نہ ہوئے تو میں انشاء اللہ اس کے لئے دعا کروں گا جس سے اس کے اخلاق درست ہو جائیں گے۔حضور کے خط کی نقل یہ ہے۔مکتوب نمبر ۳ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ عزیزی میر محمد اسمعیل صاحب سلّم، تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته میں نے تمہارا خط پڑھا۔چونکہ ہمدردی کے لحاظ سے یہ بات ضروری ہے کہ جو امر اپنے نزدیک بہتر معلوم ہواس کو پیش کیا جائے۔اس لئے میں آپ کو لکھتا ہوں کہ اس زمانے میں جو طرح طرح کی بدچلنیوں کی وجہ سے اکثر لوگوں کی نسل خراب ہو گئی ہے۔لڑکیوں کے بارے میں مشکلات پیدا ہوگئی ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ بڑی بڑی تلاش کے بعد بھی اجنبی لوگوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے سے کئی بد نتیجے نکلتے ہیں۔بعض لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے باپ یا دادوں کو کسی زمانے میں آتشک تھی اور کئی مدت کے بعد وہ مرض ان میں بھی پیدا ہو جاتی ہے۔بعض لڑکیوں کے باپ دادوں کو جذام ہوتا ہے تو کسی زمانہ میں وہی مادہ لڑکیوں میں بھی پیدا ہو جاتا ہے۔بعض میں سل کا مادہ ہوتا ہے۔بعض میں دق کا مادہ اور بعض کو بانجھ ہونے کی مرض ہوتی ہے اور بعض لڑکیاں اپنے خاندان کی بد چلنی کی وجہ سے پورا حصہ تقویٰ کا اپنے اندر نہیں رکھتیں۔ایسا ہی اور بھی عیوب ہوتے ہیں کہ اجنبی لوگوں سے تعلق پکڑنے کے وقت معلوم نہیں ہوتے لیکن جو اپنی قرابت کے لوگ ہیں ان کا سب حال معلوم ہوتا ہے۔اس لئے میری دانست میں آپ کی طرف سے نفرت کی وجہ بجز اس کے کوئی نہیں ہوسکتی کہ یہ بات ثابت ہو جائے کہ بشیر الدین کی لڑکی دراصل بدشکل ہے یا کانی یعنی یک چشم ہے یا