مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 389
مکتوبات احمد ۲۵۱ جلد سوم حضرت خان صاحب ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاح کے نام تعارفی نوٹ حضرت مخدومی ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب جماعت احمدیہ میں ایک خاص مقام رفیع رکھتے ہیں۔اپنے علم وفضل ، تقوی وطہارت ، اخلاق فاضلہ کے لحاظ سے اور اس نسبت کی وجہ سے جو ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ہے۔آپ حضرت اُم المومنین (مَتِّعْنَا اللهُ بِطُولِ حَيَاتِهَا ) کے حقیقی بھائی ہیں ان کی تربیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظر کیمیا اثر کے نیچے ہوئی ہے۔میں حضرت میر صاحب کو جماعت احمدیہ کے صوفی منش بزرگوں میں سب سے بلند مقام پر دیکھتا ہوں۔وہ روحانیت سے سرشار اور قرب الہی کے لئے بیتاب قلب رکھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق روایات کے سلسلے میں اہل بیت کی روایات کو مستی کر کے آپ کا مقام ہی بلند ہے اور میں تو ان کو بھی اہل بیت میں داخل سمجھتا ہوں۔ان کی بیان کردہ روایات نہایت صاف اور صحیح ہیں۔انہوں نے چوتھائی صدی کا زمانہ حضرت اقدس کے ساتھ گزارا ہے۔وہ خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا ایک نشان ہیں اور میں ان کو آیت اللہ یقین کرتا ہوں۔ان کی زندگی اور ان کا ڈاکٹر ہونا یہ سب ایک پیشگوئی کا نتیجہ ہے۔حضرت میر صاحب کا تذکرہ تفصیل سے مرحوم عرفانی صغیر لکھنا چاہتے تھے۔ان کے نوٹوں کی بنا پر اب کتاب تعارف میں انشاء اللہ خدا کے فضل سے خاکسار لکھنے کا عزم رکھتا ہے۔حضرت میر صاحب کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ جیسے حضرت نانا جان رضی اللہ عنہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عزت صہر حاصل تھی۔حضرت میر صاحب کو حضرت خلیفہ امسیح ثانی ( جوالمصلح الموعود اور مثیل مسیح بھی ہیں ) سے یہ نسبت خدا کے فضل سے حاصل ہے۔حضرت میر صاحب کے نام کے مکتوبات ان کی روایات کے سلسلے میں سیرۃ المہدی میں درج ہوئے ہیں اسی سے لے کر معہ ان روایات کے جن کے تحت وہ درج ہوئے ہیں اور حضرت مخدومی مرزا بشیر احمد صاحب سَلَّمَهُ اللهُ الْأَحَدُ کے نوٹ کے ساتھ درج کر رہا ہوں۔( عرفانی کبیر )