مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 303
مکتوبات احمد ۲۴۲ جلد سوم کے باطنی قرب کا کچھ حارج نہیں۔انشاء اللہ ملاقات بھی کسی وقت ہو جائے گی اور آج جس قد ربعض لوگوں میں بد خیالات وظنونِ فاسدہ پیدا ہو گئے ہیں۔میں ان سے کچھ آزردہ نہیں اور نہ ایسے لوگ میری کا رروائیوں کو کچھ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔بات یہ ہے کہ دنیا میں ہمیشہ سے اکثر لوگ سریع اتغیر اور کچے خیال کے ہوتے رہے ہیں۔ایسا ہی اس زمانہ میں بھی ہیں۔مگر ایسے لوگ نہ اپنے بشمول سے کچھ برکت زیادہ کرتے ہیں اور نہ اپنے مخالفانہ قیل و قال سے کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔انسان کے لئے اس کا حقیقی محاسب خدا تعالیٰ ہے۔اگر وہ کسی بندہ پر ناراض ہو تو تمام دنیا مل کر اس بندہ کو اپنی مرادات میں کامیاب نہیں کر سکتی اور اگر راضی ہو تو اُس کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی۔جو شخص حقیقت میں سچا اور زیر سایہ حمایت الہی ہو اس کو کسی کی دوستی و دشمنی کی پروا بھی نہیں ہوتی۔ہر یک شخص اپنا جو ہر ظاہر کرتا ہے۔نیک آدمی اپنی نیک باتوں اور وفاداری اور صدق اور صفا سے اپنی نکو کاری کا ثبوت دیتا ہے اور بد آدمی اپنی بد خیالی اور بد افعالی اور بدگمانی سے اپنے مادہ بد کو ظاہر کرتا ہے۔اللہ جل شانه نے فرمایا ہے۔كُلُّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِه ا یعنی ہر یک شخص اپنے مادہ اور اپنی فطرت کے مطابق عمل کر رہا ہے اور اس جگہ اور سب طرح سے خیریت ہے۔والسلام سب کی طرف سے السلام علیکم خاکسار ۲ مارچ ۱۹۰۸ء ا بنی اسرائیل: ۸۵ غلام احمد از قادیان