مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 294
مکتوبات احمد ۲۳۳ جلد سوم (نوٹ ) اس خط پر حضور نے تاریخ نہیں دی ہے۔ہاں اس بات سے اس سال کا اندازہ ہو سکتا ہے۔جس میں یہ حضور نے لکھا ہے کہ یہ طاعون کے حملے پہلے سال کا واقعہ ہے۔حضور اپنے مکتوب مورخہ ۲۷ / اپریل ۹۸ء بنام سیٹھ حاجی عبدالرحمن اللہ رکھا صاحب مدراسی رضی اللہ عنہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ اس طرف طاعون کا بہت زور ہے۔سنا ہے ایک دو مشتبہ وارداتیں امرتسر میں بھی ہوئی ہیں اور مکتوب مورخہ ۱۵ رمئی ۹۸ء بنام سیٹھ صاحب موصوف، نیز فرماتے ہیں کہ اس طرف طاعون چمکتی جاتی ہے۔اب اسی کے قریب گاؤں ہیں۔جن میں زور و شور ہو رہا ہے۔قادیان میں یہ حال ہے کہ لڑکوں اور جوانوں اور بڑھوں کو بھی خفیف سا تپ چڑھتا ہے۔دوسرے دن کانوں کے نیچے یا بغل کے نیچے یا بُن ران میں گلٹی نکل آتی ہے۔گلٹی تیسرے چوتھے روز خود بخود تحلیل ہو کر کم ہو جاتی ہے مگر اس خط بنام مولوی عبداللہ صاحب میں یہ کوئی ذکر نہیں کہ اس علاقے میں بھی طاعون نمودار ہورہی ہے۔جس سے بطور تخمینہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خط مارچ یا اپریل ۹۸ء کا لکھا ہوا ہے۔اس لئے اس کو اس محل پر درج کیا گیا اور اس خط کے آخر میں حضور نے اپنا اسم مبارک بھی تحریر نہیں فرمایا ہے مگر یہ خط ہے حضور کے اپنے قلم اور دست مبارک کا لکھا ہوا۔یہ خط حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے جناب مولوی عبداللہ صاحب کو مولوی صاحب کے ایک ایسے خط کے جواب میں تحریر فرمایا تھا جو انہوں نے ماسٹر قا در بخش صاحب احمدی ساکن لودہانہ کی طرف سے حضور کی خدمت میں لکھا تھا۔