مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 288
مکتوبات احمد ۲۲۷ جلد سوم مکتوب نمبر ۵۵ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ مجی اخویم میاں عبداللہ صاحب سلمہ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ اب تک نہیں آئے۔مانع بخیر ہو۔اول منشی غلام قادر کی نسبت میرا یہ خیال تھا کہ بعض مجرب نسخے جو میرے والد صاحب سے مجھ کو یاد ہیں اور ایسی بیماریوں کی نسبت گو یا حکم اکسیر رکھتے ہیں اس جگہ ان کو ٹھہرا کر استعمال کراؤں لیکن بعد اس کے مجھ کو معلوم ہوا کہ اس جگہ وہ دوائیں تازہ بتازہ پیدا ہونا بہت مشکل اور محال کی طرح ہے اور کسی قدر ضعف ان کو زیادہ ہے۔اس لئے اب تاخیر علاج میں کرنا ہرگز مناسب نہیں ہے۔سو میرے نزدیک بہت مناسب ہے کہ وہ سنور میں ٹھہریں اور امید ہے کہ اس جگہ وہ دوائیں روز بروز تازہ بتازہ ہل جائیں گی۔یہ تجویز نہایت عمدہ ہے۔میں چاہتا ہوں کہ جہاں تک جلد ممکن ہو یہ تجویز کی جائے۔انشاء اللہ مجھے قوی امید ہے کہ خدا تعالیٰ شفاء بخشے۔لہذا آپ کو مکلف ( کرتا ) ہوں کہ دو تین روز کے لئے آپ ضرور آجائیں۔ہرگز توقف نہ کریں کیونکہ ان بیماریوں میں غفلت کرنا ہرگز مناسب نہیں۔اپنا حرج کر کے بھی آجائیں۔اگر میں اس جگہ اس بات کو ممکن دیکھتا کہ یہ علاج بآسانی ہو سکتا ہے تو آپ کو تکلیف نہ دیتا مگر اب یہی دیکھتا ہوں کہ بغیر ان کے سنور رہنے کے یہ علاج ہو نہیں سکتا۔ماسوا اس کے ان کی والدہ بھی نہایت قلق میں ہیں۔اس صورت میں ان کو بھی تسلی رہے گی۔تاکید یہی ہے کہ جلد آویں اور اگر کوئی ایسا مانع ہو تو اپنی جگہ عبد الرحمن یا کسی اور کو بھیج دیں تاکید ہے۔۱۲ رمئی ۱۸۹۶ء والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ ( نوٹ ) مولوی عبداللہ صاحب نے فرمایا کہ عبدالرحمن میرے ماموں زاد بھائی ہیں۔